Jasarat News:
2026-06-02@22:28:37 GMT

سیدنا جلبیب انصاری رضی اللہ عنہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سلسلہ نسب اور خاندان کا حال معلوم نہیں لیکن اربابِ سیر کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے اور انصار کے کسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پست قد اور کم رو تھے لیکن پاک باطنی، نیک طنیتی، شجاعت، اخلاص فی الدین اور حبِ رسولؐ کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اسی لیے رحمتِ دو عالمؐ کو بہت محبوب تھے۔ مسند احمد بن حنبل میں ابوبرزہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ جلبیبؓ کی طبیعت میں مزاح بہت تھا، یہاں تک کہ خواتین سے بھی مزاح کی باتیں کر جاتے تھے جو بعض طبائع کو ناگوار گزرتی تھیں، تاہم حضورؓ کو ان کے حسنِ کردار پر پورا اعتماد تھا اور آپؐ ان پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ انصار کا معمول تھا کہ جب ان کی کوئی خاتون بیوی ہو جاتی تو وہ اس کا دوسرا نکاح حضورؐ سے دریافت کیے بغیر نہ کرتے۔ ایک دفعہ حضورؐ نے ایک انصاری سے فرمایا کہ اپنی بیوی بیٹی کا نکاح مجھے کرنے دو۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ یہ تو آپ کا بڑا کرم اور انعام ہوگا۔ حضورؐ نے فرمایا: میں خود اس سے نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر آپ کس کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں؟

حضورؐ نے فرمایا: جلبیب کے ساتھ۔
انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ، میں اپنی بیوی کے ساتھ مشورہ کر لوں۔ حضورؐ نے فرمایا: ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
انصاری نے اپنی اہلیہ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو وہ کچھ تو سیدنا جلبیبؓ کم روئی کی وجہ سے اور کچھ ان کی مزاحیہ طبیعت کی وجہ سے رشتہ دینے میں متذبذب ہوئیں۔ لڑکی نہایت زیرک اور مخلص مومنہ تھی، اس کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے والدین کو اللہ کا یہ حکم یاد دلایا کہ: جب اللہ اور رسولؐ کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ پھر کہا کہ آپ رسولؐ کے ارشاد کو رد کرنا چاہتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ آپ مجھے حضورؐ کے حوالے کر دیں، وہ مجھے کبھی ضائع نہ ہونے دیں گے۔ میری مرضی حضورؐ کی مرضی کے تابع ہے اور مجھے آپؐ کا ارشاد بسر و چشم منظور ہے۔
لڑکی کے والد نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو حضورؐ لڑکی کی سعادت مندی پر بہت مسرور ہوئے اور اس کے حق میں یہ دعا مانگی:
الہی اس (بیوہ) لڑکی پر خیر کی بوچھاڑ کر دے اور اس کی زندگی کو گدلا اور مکدر نہ کر۔
پھر آپؐ نے سیدنا جلبیبؓ سے فرمایا کہ فلاں لڑکی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ مجھے کھوٹا پائیں گے۔
حضورؐ نے فرمایا: نہیں، تم خدا کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو۔

اس کے بعد آپ نے جلبیبؓ کا نکاح اس لڑکی سے کر دیا۔ حضورؐ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی گھریلو زندگی کو جنت بنا دیا اور وہ نہایت آسودہ حال ہو گئے۔ اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ انصار میں کوئی عورت اس خاتون سے زیادہ تونگر اور شاہ خرچ نہ تھی۔
سیدنا ابوبرزہؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ ایک غزوہ پر تشریف لے گئے (کتبِ سیر میں اس غزوہ کی تصریح نہیں کی گئی) جلبیبؓ بھی حضورؐ کے ہمرکاب تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فتح عطا کی اور مالِ غنیمت آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے صحابہؓ سے پوچھا: ہمارے کون کون سے آدمی لاپتہ ہیں؟
صحابہؓ نے کچھ آدمیوں کے نام بتائے۔ حضورؐ نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی سوال کیا۔ صحابہؓ چند آدمیوں کا نام لے دیتے، جلبیبؓ کی طرف کسی کا خیال ہی نہ گیا۔ اب حضورؐ نے فرمایا:
مجھے جلبیبؓ نظر نہیں آتا۔

صحابہ کرامؓ ارشادِ نبوی سن کو چونک پڑے اور اسی وقت سیدنا جلبیبؓ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی دور جا کر دیکھا کہ سات مشرک مقتول پڑے ہیں اور قریب ہی جلبیبؓ بھی خاک و خون میں آغشتہ پڑے ہیں۔ حضورؐ کو اطلاع ملی تو آپ خود وہاں تشریف لائے۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر طبع مبارک بہت متاثر ہوئی۔ جلبیبؓ کے جسمِ اطہر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا:
سات کو قتل کر کے قتل ہوا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ اس کے بعد سید المرسلینؐ نے جلبیبؓ کے جسدِ اطہر کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور قبر کھدوا کر اپنے دستِ مبارک سے ان تدفین فرمائی اور غسل نہیں دیا۔
جس شہید راہِ حق کے لیے رحمتِ دو عالم فخرِ جن و انس، سیدِ کونینؐ نے بتکرار فرمایا ہو کہ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور پھر جس کے جسدِ خاکی کو ساقی کوثرؐ نے اپنے مقدس ہاتھوں پر اٹھا کر جائے شہادت سے آغوشِ لحد تک پہنچایا ہو۔ اس کے علوِ مرتبت کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

طالب ہاشمی گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے عرض کیا نے فرمایا رسول اللہ ہے اور

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی