سیدنا جلبیب انصاری رضی اللہ عنہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سلسلہ نسب اور خاندان کا حال معلوم نہیں لیکن اربابِ سیر کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے اور انصار کے کسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پست قد اور کم رو تھے لیکن پاک باطنی، نیک طنیتی، شجاعت، اخلاص فی الدین اور حبِ رسولؐ کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اسی لیے رحمتِ دو عالمؐ کو بہت محبوب تھے۔ مسند احمد بن حنبل میں ابوبرزہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ جلبیبؓ کی طبیعت میں مزاح بہت تھا، یہاں تک کہ خواتین سے بھی مزاح کی باتیں کر جاتے تھے جو بعض طبائع کو ناگوار گزرتی تھیں، تاہم حضورؓ کو ان کے حسنِ کردار پر پورا اعتماد تھا اور آپؐ ان پر بڑی شفقت فرماتے تھے۔ انصار کا معمول تھا کہ جب ان کی کوئی خاتون بیوی ہو جاتی تو وہ اس کا دوسرا نکاح حضورؐ سے دریافت کیے بغیر نہ کرتے۔ ایک دفعہ حضورؐ نے ایک انصاری سے فرمایا کہ اپنی بیوی بیٹی کا نکاح مجھے کرنے دو۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ یہ تو آپ کا بڑا کرم اور انعام ہوگا۔ حضورؐ نے فرمایا: میں خود اس سے نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ! پھر آپ کس کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں؟
حضورؐ نے فرمایا: جلبیب کے ساتھ۔
انصاری نے عرض کیا، یا رسول اللہ، میں اپنی بیوی کے ساتھ مشورہ کر لوں۔ حضورؐ نے فرمایا: ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
انصاری نے اپنی اہلیہ سے اس بارے میں مشورہ کیا تو وہ کچھ تو سیدنا جلبیبؓ کم روئی کی وجہ سے اور کچھ ان کی مزاحیہ طبیعت کی وجہ سے رشتہ دینے میں متذبذب ہوئیں۔ لڑکی نہایت زیرک اور مخلص مومنہ تھی، اس کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے والدین کو اللہ کا یہ حکم یاد دلایا کہ: جب اللہ اور رسولؐ کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو کسی مسلمان کو اس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں۔ پھر کہا کہ آپ رسولؐ کے ارشاد کو رد کرنا چاہتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ آپ مجھے حضورؐ کے حوالے کر دیں، وہ مجھے کبھی ضائع نہ ہونے دیں گے۔ میری مرضی حضورؐ کی مرضی کے تابع ہے اور مجھے آپؐ کا ارشاد بسر و چشم منظور ہے۔
لڑکی کے والد نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو حضورؐ لڑکی کی سعادت مندی پر بہت مسرور ہوئے اور اس کے حق میں یہ دعا مانگی:
الہی اس (بیوہ) لڑکی پر خیر کی بوچھاڑ کر دے اور اس کی زندگی کو گدلا اور مکدر نہ کر۔
پھر آپؐ نے سیدنا جلبیبؓ سے فرمایا کہ فلاں لڑکی سے تمہارا نکاح کرتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ مجھے کھوٹا پائیں گے۔
حضورؐ نے فرمایا: نہیں، تم خدا کے نزدیک کھوٹے نہیں ہو۔
اس کے بعد آپ نے جلبیبؓ کا نکاح اس لڑکی سے کر دیا۔ حضورؐ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی گھریلو زندگی کو جنت بنا دیا اور وہ نہایت آسودہ حال ہو گئے۔ اہلِ سیر نے لکھا ہے کہ انصار میں کوئی عورت اس خاتون سے زیادہ تونگر اور شاہ خرچ نہ تھی۔
سیدنا ابوبرزہؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ ایک غزوہ پر تشریف لے گئے (کتبِ سیر میں اس غزوہ کی تصریح نہیں کی گئی) جلبیبؓ بھی حضورؐ کے ہمرکاب تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو فتح عطا کی اور مالِ غنیمت آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے صحابہؓ سے پوچھا: ہمارے کون کون سے آدمی لاپتہ ہیں؟
صحابہؓ نے کچھ آدمیوں کے نام بتائے۔ حضورؐ نے دوبارہ اور سہ بارہ یہی سوال کیا۔ صحابہؓ چند آدمیوں کا نام لے دیتے، جلبیبؓ کی طرف کسی کا خیال ہی نہ گیا۔ اب حضورؐ نے فرمایا:
مجھے جلبیبؓ نظر نہیں آتا۔
صحابہ کرامؓ ارشادِ نبوی سن کو چونک پڑے اور اسی وقت سیدنا جلبیبؓ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ تھوڑی دور جا کر دیکھا کہ سات مشرک مقتول پڑے ہیں اور قریب ہی جلبیبؓ بھی خاک و خون میں آغشتہ پڑے ہیں۔ حضورؐ کو اطلاع ملی تو آپ خود وہاں تشریف لائے۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر طبع مبارک بہت متاثر ہوئی۔ جلبیبؓ کے جسمِ اطہر کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا:
سات کو قتل کر کے قتل ہوا، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ اس کے بعد سید المرسلینؐ نے جلبیبؓ کے جسدِ اطہر کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور قبر کھدوا کر اپنے دستِ مبارک سے ان تدفین فرمائی اور غسل نہیں دیا۔
جس شہید راہِ حق کے لیے رحمتِ دو عالم فخرِ جن و انس، سیدِ کونینؐ نے بتکرار فرمایا ہو کہ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور پھر جس کے جسدِ خاکی کو ساقی کوثرؐ نے اپنے مقدس ہاتھوں پر اٹھا کر جائے شہادت سے آغوشِ لحد تک پہنچایا ہو۔ اس کے علوِ مرتبت کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
طالب ہاشمی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے عرض کیا نے فرمایا رسول اللہ ہے اور
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :