یمن میں مزاحمت کی اسٹریٹیجی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: سعودی عرب اور امارات سمیت دشمنوں کی نقل و حرکت اور سازشوں پر گہری نظر رکھنے، اور فرقہ وارانہ و علیحدگی پسند عناصر کے مقابل قومی وحدت کے تحفظ میں یمن کی مزاحمتی قوتوں کا کردار، اس ملک کی خودمختاری اور آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ وسائل یا اسٹریٹجک علاقوں پر قبضے کی ہر کوشش کو مزاحمت کے سخت اور فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پیچیدہ علاقائی منظرناموں کے مقابلے میں اس تحریک کی سیاسی اور عسکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یمن کی مزاحمتی طاقت، یمنی عوام کے لیے ایک روشن اور باوقار مستقبل کی ضامن ہے۔ خصوصی رپورٹ:
یمن میں حالیہ پیش رفت، بالخصوص ملک کے مشرقی علاقوں میں نیابتی قوتوں کی سرگرمیاں، ایک بار پھر بیرونی سازشوں کے مقابل یمنی مزاحمتی قوتوں کی اسٹریٹجک اہمیت اور مضبوط عزم کو نمایاں کرتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بعض علاقائی کھلاڑی داخلی اختلافات کو ہوا دے کر اور اسٹریٹجک علاقوں پر قبضہ کر کے طاقت کا توازن اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مزاحمت کی بازدار قوت اور ہوشیاری نے ان دشمنانہ اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔ مشرقی صوبوں، خصوصاً المہرہ اور حضرموت میں حالیہ واقعات انہی کوششوں کی مثال ہیں، جن کا سامنا مزاحمتی قوتوں کی بروقت بیداری سے ہوا ہے۔ زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ملیشیاؤں نے، جو براہِ راست امارات کی حمایت یافتہ ہیں، المہرہ اور حضرموت کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
المہرہ، جو رقبے کے لحاظ سے یمن کا دوسرا بڑا صوبہ ہے، نہ صرف عمان کے ساتھ ایک اہم سرحد رکھتا ہے بلکہ بحیرۂ عرب کے بعض حصوں پر بھی تسلط رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرموت، جو ملک کے تقریباً 36 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور جہاں یمن کے تیل و گیس کے تقریباً 80 فیصد ذخائر موجود ہیں، ان مداخلتوں کا ایک بنیادی ہدف ہے۔ یہ اقدامات واضح طور پر امارات کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں قابلِ فہم ہیں، جس کا مقصد یمن کے کلیدی جغرافیائی علاقوں، بالخصوص اسٹریٹجک جزیرے سقطریٰ پر جیوپولیٹیکل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ان علاقوں پر قبضے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ ملیشیائیں اپنی پیش قدمی کے اگلے مرحلے میں ان علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں جو قومی قوتوں (انصاراللہ) کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ گروہ المہرہ پر قبضے کے بعد حضرموت کی جانب بڑھے، اور بعید از قیاس ہے کہ وہ ان کامیابیوں پر اکتفا کریں گے۔
بعض تجزیہ کاروں نے ان پیش رفتوں کا موازنہ خطے کے دیگر تنازعات میں ہونے والی تیز رفتار شکستوں سے کیا ہے، تاہم ایسا موازنہ یمن کی زمینی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ دشمن کے محاذوں پر کمزوری اور انتشار کے برعکس، یمن کی مزاحمتی قوتوں کی داخلی صورتحال،جس میں مسلح افواج کا اتحاد اور عوامی حمایت شامل ہے، کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے۔ یہی منظم ڈھانچہ مزاحمت کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نہ صرف بیرونی حملوں کے سامنے ڈٹی رہے بلکہ دشمنوں کی جانب سے یمن کو تقسیم کرنے اور سماجی ساخت میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں کو بھی مؤثر طور پر ناکام بنائے۔ مزاحمتی قوتوں کی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتیں، جو فعال دفاع کے مکتبِ فکر پر مبنی ہیں، یہ واضح کرتی ہیں کہ فوجی قبضے کے ذریعے طاقت کا توازن بدلنے کی ہر کوشش جارحین کے لیے نہایت بھاری قیمت کا باعث بنے گی۔
سعودی عرب اور امارات سمیت دشمنوں کی نقل و حرکت اور سازشوں پر گہری نظر رکھنے، اور فرقہ وارانہ و علیحدگی پسند عناصر کے مقابل قومی وحدت کے تحفظ میں یمن کی مزاحمتی قوتوں کا کردار، اس ملک کی خودمختاری اور آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ وسائل یا اسٹریٹجک علاقوں پر قبضے کی ہر کوشش کو مزاحمت کے سخت اور فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پیچیدہ علاقائی منظرناموں کے مقابلے میں اس تحریک کی سیاسی اور عسکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یمن کی مزاحمتی طاقت، یمنی عوام کے لیے ایک روشن اور باوقار مستقبل کی ضامن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مزاحمتی قوتوں کی یمن کی مزاحمتی علاقوں پر
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔