Islam Times:
2026-06-02@23:10:13 GMT

یمن میں مزاحمت کی اسٹریٹیجی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

یمن میں مزاحمت کی اسٹریٹیجی

اسلام ٹائمز: سعودی عرب اور امارات سمیت دشمنوں کی نقل و حرکت اور سازشوں پر گہری نظر رکھنے، اور فرقہ وارانہ و علیحدگی پسند عناصر کے مقابل قومی وحدت کے تحفظ میں یمن کی مزاحمتی قوتوں کا کردار، اس ملک کی خودمختاری اور آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ وسائل یا اسٹریٹجک علاقوں پر قبضے کی ہر کوشش کو مزاحمت کے سخت اور فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پیچیدہ علاقائی منظرناموں کے مقابلے میں اس تحریک کی سیاسی اور عسکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یمن کی مزاحمتی طاقت، یمنی عوام کے لیے ایک روشن اور باوقار مستقبل کی ضامن ہے۔ خصوصی رپورٹ: 

یمن میں حالیہ پیش رفت، بالخصوص ملک کے مشرقی علاقوں میں نیابتی قوتوں کی سرگرمیاں، ایک بار پھر بیرونی سازشوں کے مقابل یمنی مزاحمتی قوتوں کی اسٹریٹجک اہمیت اور مضبوط عزم کو نمایاں کرتی ہیں۔ ایسے وقت میں جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے بعض علاقائی کھلاڑی داخلی اختلافات کو ہوا دے کر اور اسٹریٹجک علاقوں پر قبضہ کر کے طاقت کا توازن اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مزاحمت کی بازدار قوت اور ہوشیاری نے ان دشمنانہ اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔ مشرقی صوبوں، خصوصاً المہرہ اور حضرموت میں حالیہ واقعات انہی کوششوں کی مثال ہیں، جن کا سامنا مزاحمتی قوتوں کی بروقت بیداری سے ہوا ہے۔ زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ملیشیاؤں نے، جو براہِ راست امارات کی حمایت یافتہ ہیں، المہرہ اور حضرموت کے بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

المہرہ، جو رقبے کے لحاظ سے یمن کا دوسرا بڑا صوبہ ہے، نہ صرف عمان کے ساتھ ایک اہم سرحد رکھتا ہے بلکہ بحیرۂ عرب کے بعض حصوں پر بھی تسلط رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرموت، جو ملک کے تقریباً 36 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور جہاں یمن کے تیل و گیس کے تقریباً 80 فیصد ذخائر موجود ہیں، ان مداخلتوں کا ایک بنیادی ہدف ہے۔ یہ اقدامات واضح طور پر امارات کی اس وسیع تر پالیسی کے تناظر میں قابلِ فہم ہیں، جس کا مقصد یمن کے کلیدی جغرافیائی علاقوں، بالخصوص اسٹریٹجک جزیرے سقطریٰ پر جیوپولیٹیکل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ ان علاقوں پر قبضے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ ملیشیائیں اپنی پیش قدمی کے اگلے مرحلے میں ان علاقوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں جو قومی قوتوں (انصاراللہ) کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ گروہ المہرہ پر قبضے کے بعد حضرموت کی جانب بڑھے، اور بعید از قیاس ہے کہ وہ ان کامیابیوں پر اکتفا کریں گے۔ 

بعض تجزیہ کاروں نے ان پیش رفتوں کا موازنہ خطے کے دیگر تنازعات میں ہونے والی تیز رفتار شکستوں سے کیا ہے، تاہم ایسا موازنہ یمن کی زمینی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ دشمن کے محاذوں پر کمزوری اور انتشار کے برعکس، یمن کی مزاحمتی قوتوں کی داخلی صورتحال،جس میں مسلح افواج کا اتحاد اور عوامی حمایت شامل ہے، کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے۔ یہی منظم ڈھانچہ مزاحمت کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نہ صرف بیرونی حملوں کے سامنے ڈٹی رہے بلکہ دشمنوں کی جانب سے یمن کو تقسیم کرنے اور سماجی ساخت میں دراڑیں ڈالنے کی کوششوں کو بھی مؤثر طور پر ناکام بنائے۔ مزاحمتی قوتوں کی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتیں، جو فعال دفاع کے مکتبِ فکر پر مبنی ہیں، یہ واضح کرتی ہیں کہ فوجی قبضے کے ذریعے طاقت کا توازن بدلنے کی ہر کوشش جارحین کے لیے نہایت بھاری قیمت کا باعث بنے گی۔ 

سعودی عرب اور امارات سمیت دشمنوں کی نقل و حرکت اور سازشوں پر گہری نظر رکھنے، اور فرقہ وارانہ و علیحدگی پسند عناصر کے مقابل قومی وحدت کے تحفظ میں یمن کی مزاحمتی قوتوں کا کردار، اس ملک کی خودمختاری اور آزادی کا بنیادی ستون ہے۔ وسائل یا اسٹریٹجک علاقوں پر قبضے کی ہر کوشش کو مزاحمت کے سخت اور فیصلہ کن ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پیچیدہ علاقائی منظرناموں کے مقابلے میں اس تحریک کی سیاسی اور عسکری پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ یمن کی مزاحمتی طاقت، یمنی عوام کے لیے ایک روشن اور باوقار مستقبل کی ضامن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مزاحمتی قوتوں کی یمن کی مزاحمتی علاقوں پر

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان