data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی انجینئر سلیم اظہر ، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف ،وائس ٹاؤن چیئرمین شعیب بن ظہیر اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری کے ہمراہ نیو کراچی ٹاؤن کی مختلف یوسیز کا دورہ کیا اور ٹاؤن کے تحت ہونے والے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پرمنعم ظفر خان نے کہاکہ نیو کراچی ٹاؤن کے ’’خوبصورت محلے، خوبصورت ٹاؤن‘‘ کے عزم کے تحت تعمیر و ترقی کے پہلے فیز میں 600 گلیوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا اوراب تک 300 گلیاں مکمل کی جاچکی ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود عوامی خدمت اور تعمیر و ترقی کا سفر مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ٹاؤنزمیں گلیوں اور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ پیور بلاکس لگانے کا کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ بنیادی انفرا اسٹرکچر کو بھی بہتر بنایا جائے گاکیونکہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر شدید تباہ حالی کا شکار ہے، موجودہ صورتحال میں سندھ حکومت کی ذمے داری ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے تمام ٹاؤنز کو کم ازکم 5ارب روپے کی خصوصی گرانٹس فراہم کی جائے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں ، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نااہل ادارے ثابت ہوئے ہیں اور ان کی اس نااہلی کی سزا کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں ۔دورے کے دوران سیکرٹری ضلع شمالی محمد شکیل ، چیئرمین یوسی 5عطا الرحمن راجا، وائس چیئرمین یوسی 7عدنان رضی، چیئرمین یوسی 12عظیم انور ودیگر منتخب نمائندے موجود تھے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کے مسائل ٹاؤن کی ذمے داری نہیں لیکن جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 2 ارب روپے صرف سیوریج کے مسائل کے حل پر خرچ کیے۔ نیو کراچی ٹاؤن میں 20 ہزار گھرانوں کو لائنوں کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا جبکہ پورے کراچی میں 80 ہزار گھرانوں تک لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے، حالانکہ یہ کام کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور آج الحمدللہ اپنے وعدوں کی تکمیل کررہے ہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے ٹاؤن اور یوسی کی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہئیں تھے، مگر سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سمیت تمام اہم ادارے صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، حتیٰ کہ کچرا اٹھانے کا اختیار بھی سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ شہر میں کچرا نہ اٹھائے جانے کے باعث اسے جلایا جاتا ہے، جس سے بدبو، گندگی اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ سیوریج کے مسائل حل کرے، کیونکہ اگر سیوریج کا نظام درست نہیں ہوگا تو گلیوں میں پیور بلاکس لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔منعم ظفر نے نشاندہی کی کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 47 ارب روپے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا 43 ارب روپے، کے ایم سی کا 55 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومت کا مجموعی بجٹ 3451 ارب روپے ہے، اس کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے 12 سالہ منصوبہ بنایا گیا تھا، جس کے لیے 1.

6 بلین ڈالر کا بجٹ رکھا گیا۔ یہ منصوبہ 2019 میں شروع اور 2031 میں مکمل ہونا تھا، مگر بدقسمتی سے شہر میں کہیں بھی سیوریج کے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے، جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔محمد یوسف نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اپنی بنیادی ذمے داریاں ادا نہیں کررہا جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے گزشتہ کچھ عرصے سے کچرا اٹھانے کی مشینری مزید کم کردی ہے، جس کے نتیجے میں نیو کراچی ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اب کچرے کے ان ڈھیروں کو آگ لگانے کا خطرناک سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت کوئی افسوسناک حادثہ پیش آسکتا ہے۔ اگر ٹاؤن کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانا ہے تو واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو اپنی ذمے داریاں سنجیدگی اور دیانت داری سے ادا کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نیو کراچی ٹاؤن میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن میں اب تک 24 پارکس کی تزئین و آرائش مکمل کی جاچکی ہے مزید 12 پارکوں کو بحال کیا جائے گا جبکہ اس کے علاوہ ٹاؤن میں 2 اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کے مرحلے میں ہیں، جنہیں ماڈل اسکولز میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں معیاری تعلیم کے ساتھ بہتر اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جولائی تک 2 لائبریریوں کو بھی بہتر اور فعال کیا جائے گا۔ ایک ڈسپنسری کی تزئین و آرائش مکمل کی جاچکی ہے جبکہ ایک اور ڈسپنسری قانونی کیس کے باعث زیر التوا ہے، کیس ختم ہوتے ہی اسے بھی بحال کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے یوتھ سینٹرز قائم کرنے کا بھی منصوبہ ہے تاکہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جاسکے۔محمد یوسف نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیو کراچی ٹاؤن کو فوری طور پر 5 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے، تاکہ تعمیر و ترقی کے اس سفر کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں نیو کراچی ٹاؤن سمیت کراچی بھر میں عوامی خدمت اور ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سیوریج کے مسائل نیو کراچی ٹاؤن جماعت اسلامی کیا جائے گا سندھ حکومت نے کہا کہ کہ کراچی فراہم کی ارب روپے انہوں نے کے باعث کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن