منعم ظفر خان کا اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور خصوصی گرانٹ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نائب امیر کراچی انجینئر سلیم اظہر ، ٹاؤن چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف ،وائس ٹاؤن چیئرمین شعیب بن ظہیر اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری کے ہمراہ نیو کراچی ٹاؤن کی مختلف یوسیز کا دورہ کیا اور ٹاؤن کے تحت ہونے والے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس موقع پرمنعم ظفر خان نے کہاکہ نیو کراچی ٹاؤن کے ’’خوبصورت محلے، خوبصورت ٹاؤن‘‘ کے عزم کے تحت تعمیر و ترقی کے پہلے فیز میں 600 گلیوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا اوراب تک 300 گلیاں مکمل کی جاچکی ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے محدود اختیارات اور وسائل کے باوجود عوامی خدمت اور تعمیر و ترقی کا سفر مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ٹاؤنزمیں گلیوں اور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ پیور بلاکس لگانے کا کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ بنیادی انفرا اسٹرکچر کو بھی بہتر بنایا جائے گاکیونکہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر شدید تباہ حالی کا شکار ہے، موجودہ صورتحال میں سندھ حکومت کی ذمے داری ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے تمام ٹاؤنز کو کم ازکم 5ارب روپے کی خصوصی گرانٹس فراہم کی جائے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں ، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نااہل ادارے ثابت ہوئے ہیں اور ان کی اس نااہلی کی سزا کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں ۔دورے کے دوران سیکرٹری ضلع شمالی محمد شکیل ، چیئرمین یوسی 5عطا الرحمن راجا، وائس چیئرمین یوسی 7عدنان رضی، چیئرمین یوسی 12عظیم انور ودیگر منتخب نمائندے موجود تھے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کے مسائل ٹاؤن کی ذمے داری نہیں لیکن جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 2 ارب روپے صرف سیوریج کے مسائل کے حل پر خرچ کیے۔ نیو کراچی ٹاؤن میں 20 ہزار گھرانوں کو لائنوں کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا جبکہ پورے کراچی میں 80 ہزار گھرانوں تک لائنوں کے ذریعے پانی پہنچایا گیا ہے، حالانکہ یہ کام کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے اور آج الحمدللہ اپنے وعدوں کی تکمیل کررہے ہیں۔ منعم ظفر خان نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے ٹاؤن اور یوسی کی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کیے، جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے چاہئیں تھے، مگر سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سمیت تمام اہم ادارے صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، حتیٰ کہ کچرا اٹھانے کا اختیار بھی سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ شہر میں کچرا نہ اٹھائے جانے کے باعث اسے جلایا جاتا ہے، جس سے بدبو، گندگی اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ سیوریج کے مسائل حل کرے، کیونکہ اگر سیوریج کا نظام درست نہیں ہوگا تو گلیوں میں پیور بلاکس لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔منعم ظفر نے نشاندہی کی کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا سالانہ بجٹ 47 ارب روپے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا 43 ارب روپے، کے ایم سی کا 55 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومت کا مجموعی بجٹ 3451 ارب روپے ہے، اس کے باوجود کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہورہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کے نظام کی بہتری کے لیے 12 سالہ منصوبہ بنایا گیا تھا، جس کے لیے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سیوریج کے مسائل نیو کراچی ٹاؤن جماعت اسلامی کیا جائے گا سندھ حکومت نے کہا کہ کہ کراچی فراہم کی ارب روپے انہوں نے کے باعث کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔