شہباز سرکار میں معیشت زمین بوس، ملکی معیشت سے761 ارب روپے اڑن چھو
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
شہباز حکومت دور میں پاکستان کی معیشت کا بھرکس نکل گیا،ملکی معیشت کے حجم میں 761 ارب روپے کی انتہائی تشویشناک کمی ریکارڈ ،پہلی معیشت کے حجم کا تخمینہ 114۔69 کھرب روپے لگایا گیا تھا
گزشتہ مالی سال معیشت کا حجم 113۔93 کھرب روپے رہا،امریکی ڈالرمیں ملکی معیشت کامجموعی حجم 407۔9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،ادارہ شماریات نے سال 25-2024 کے معاشی اعداد و شمار جاری
شہباز حکومت کے دور میں پاکستان کی معیشت کا بھرکس نکل گیا، ملکی معیشت کے حجم میں 761 ارب روپے کی انتہائی تشویشناک کمی ہو جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ معاشی اعداد و شمار جاری کردئیے گئے۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں 761 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،گزشتہ مالی سال معیشت کا حجم 113۔93 کھرب روپے رہا،پہلی معیشت کے حجم کا تخمینہ 114۔69 کھرب روپے لگایا گیا تھا، امریکی ڈالرمیں ملکی معیشت کامجموعی حجم 407۔9 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، اکتوبر میں ملکی معیشت کا تخمینہ 407۔2 ارب ڈالرزتھا۔دستاویز کے مطابق گزشتہ سال مقامی کرنسی میں فی کس آمدن بڑھ کر 5 لاکھ 6 ہزار736 روپے ہوگئی، اس سے پہلے سالانہ فی کس آمدن کا تخمینہ 5 لاکھ 6 ہزار 188 روپے تھا،امریکی ڈالر میں فی کس آمدن 1824 سے کم ہوکر 1814 ڈالر رہی،2023 کی مردم شماری کے بعد فی کس آمدن کے اعدادوشمار میں نظرثانی ہوگی،آبادی کے نئے تخمینوں پر گزشتہ 10 سال میں فی کس آمدن کا ڈیٹا دوبارہ مرتب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: معیشت کے حجم کی معیشت کا فی کس ا مدن ملکی معیشت کا تخمینہ کھرب روپے ارب روپے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔