پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-14
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سالانہ رپورٹ برائے 2024-25ء جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 20 کروڑ جبکہ براڈ بینڈ کنکشنز 15 کروڑ سے تجاوز کر گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیلی کام کوریج 92 فیصد اور براڈ بینڈ پینی ٹریشن 60 فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔ شعبے کی سالانہ آمدن 12 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کھرب روپے سے زائد رہی جبکہ قومی خزانے میں 402 ارب روپے جمع کرائے گئے۔ سرمایہ کاری 9 فیصد اضافے سے 848 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں 95 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں جن میں 68 فیصد اسمارٹ فونز ہیں۔ سائبر سیکیورٹی میں بہتری اور صارفین کی شکایات میں 13 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔