بلوچستان میں سال 2025 خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدترین سال کیوں رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے۔
عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں خواتین پر تشدد، قتل اور غیرت کے نام پر قتل جیسے سنگین جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں خواتین صحافیوں پر ڈیجیٹل حملے، ایک خاموش محاذ کی کہانی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران بلوچستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے 123 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، اغوا، جنسی زیادتی، گھریلو تشدد، ہراسانی اور خودکشی جیسے جرائم شامل ہیں۔
عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ معاشرتی دباؤ، خوف اور رسائی نہ ہونے کے باعث تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں بلوچستان بھر میں 65 خواتین اور 25 مرد قتل ہوئے جن میں سے 33 خواتین اور 25 مرد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر 2 خواتین نے خودکشی کی جبکہ 5 خواتین کو ہراسانی، 9 کو گھریلو تشدد، 6 کو جنسی زیادتی اور 11 کو اغوا جیسے سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔
عورت فاؤنڈیشن نےغیرت کے نام پر قتل کو سب سے سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں صوبے بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے 58 واقعات ریکارڈ کیے گئے جن میں سب سے زیادہ کیسز جعفرآباد (10) میں رپورٹ ہوئے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان دوران زچگی خواتین کے انتقال کی شرح سب زیادہ، 30 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار
علاوہ ازیں سبی اور لسبیلہ میں 4، نوشکی، خاران، مستونگ اور لورالائی میں 2 جبکہ چاغی میں 1 واقعہ سامنے آیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل اب ایک وقتی جرم نہیں بلکہ ایک گہرا جڑ پکڑتا سماجی المیہ بنتا جا رہا ہے۔
عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں خواتین و بچوں کے سہولت مراکز (WJFC) کے اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں جہاں سال 2025 کے دوران 129 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں ہراسانی کے 35، گھریلو تشدد کے 37، بلیک میلنگ کے 14، مالی فراڈ کے 8، خواتین کی گمشدگی کے 4، دھمکیوں کے 4 اور ڈیجیٹل تشدد کا ایک کیس شامل ہے۔
پولیس کی جانب سے متاثرہ خواتین کو ابتدائی طبی امداد، قانونی رہنمائی اور کونسلنگ فراہم کی گئی تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ناکافی ہیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کا خونی سلسلہ، نصیرآباد سرفہرست
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم کی بنیادی وجہ پدرشاہی نظام، فرسودہ روایات، کمزور عدالتی کارروائیاں اور سماجی خاموشی ہے جو مجرموں کو کھلی چھوٹ فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ میں گزشتہ 6 سال (2019 تا 2025) کے دوران خواتین کے قتل اور غیرت کے نام پر قتل کے ضلع وار اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے جن کے مطابق کوئٹہ 103 کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ نصیر آباد، جعفرآباد، لسبیلہ، سبی، پنجگور اور خضدار بھی شدید متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ میں غیرت کے نام پر دوہرے قتل کا واقعہ
رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلسل بلند اعداد و شمار اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
عورت فاؤنڈیشن نے حکومت بلوچستان، پولیس، عدلیہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز کو سنجیدگی سے لیا جائے، مقدمات کا بروقت اندراج، شفاف تحقیقات اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جب تک قانون پر سختی سے عمل درآمد، ادارہ جاتی اصلاحات اور سماجی رویوں میں تبدیلی نہیں آئے گی، خواتین پر تشدد کا یہ سلسلہ رک نہیں سکے گا۔
ماہرین کے مطابق خواتین کو تعلیم، معاشی خودمختاری، فیصلہ سازی میں نمائندگی اور سماجی تحفظ فراہم کیے بغیر بلوچستان میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: غیرت کے نام پر قتل،جرگہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
عورت فاؤنڈیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خواتین کے حقوق، تحفظ اور انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ریاست اور معاشرے کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان میں خواتین کے قتل عورت فاؤنڈیشن غیرت کے نام پر قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان میں خواتین کے قتل عورت فاؤنڈیشن غیرت کے نام پر قتل بلوچستان میں خواتین غیرت کے نام پر قتل کے خلاف تشدد کے عورت فاؤنڈیشن خواتین کے رپورٹ میں کے مطابق کیے گئے گیا ہے سال 2025 کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ