آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز عثمان خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایشز سیریز کے آخری میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ 39 سالہ عثمان خواجہ اپنا آخری ٹیسٹ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلیں گے، وہی میدان جہاں 2011 میں ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کا اختتام عزت اور اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتے تھے، اور اس کے لیے ایس سی جی سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:’پچ‘ سے متعلق نامناسب تبصرہ، عثمان خواجہ کیخلاف ’کوڈ آف کنڈکٹ‘ کے تحت کارروائی کا امکان

عثمان خواجہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے تھے اور ایشز سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں احساس ہو گیا تھا کہ یہ ان کی آخری سیریز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر اپنی اہلیہ ریچل سے بھی تفصیلی مشاورت کی۔

عثمان خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میں 87 میچوں کا تجربہ، 6206 رنز اور 16 سنچریاں ساتھ لے کر میدان میں اتریں گے۔ وہ گزشتہ 4 برسوں میں آسٹریلوی ٹیم کے لیے ایک اہم ستون ثابت ہوئے، خاص طور پر ایشز، پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔

A Statement from the ACA, and CEO Paul Marsh on Usman Khawaja's retirement from international cricket.

pic.twitter.com/L0vlV4PWz8

— Australian Cricketers' Association (@ACA_Players) January 2, 2026

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ٹیم پر بوجھ بن کر نہیں رہنا چاہتے تھے اور کوچ اینڈریو میکڈونلڈ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر ٹیم کو ان کی ضرورت نہ ہو تو وہ فوراً ریٹائر ہونے کو تیار ہیں۔ تاہم کوچ اور ٹیم مینجمنٹ نے انہیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور دیگر سیریز کے لیے ٹیم میں برقرار رکھا۔

عثمان خواجہ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ کی نمائندگی جاری رکھیں گے اور شیفیلڈ شیلڈ میں کوئنز لینڈ کے لیے بھی کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ کی بیٹیوں کے ہمراہ نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ نے کہا کہ عثمان خواجہ نے میدان کے اندر اور باہر آسٹریلوی کرکٹ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں اور وہ نہ صرف ایک شاندار بلے باز بلکہ ایک متاثر کن شخصیت بھی رہے ہیں۔

عثمان خواجہ کا کیریئر جدوجہد، واپسی اور تسلسل کی مثال رہا، اور اب وہ اسی میدان پر کرکٹ کو الوداع کہنے جا رہے ہیں جہاں سے ان کے خواب نے حقیقت کا روپ دھارا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق