بِٹ کوائن کو 2022 کے بعد پہلی سالانہ خسارے کا سامنا، عالمی معاشی کو دباؤ کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
عالمی سطح پر سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بِٹ کوائن 2022 کے بعد پہلی بار سالانہ خسارے کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی دباؤ، مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث بِٹ کوائن کی رفتار اکتوبر کے بعد کمزور پڑ گئی ہے۔ اگرچہ رواں سال کے دوران بِٹ کوائن نے نئی تاریخی بلندیاں بھی چھوئیں، تاہم سال کے اختتام پر اس کے منفی رجحان نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرپٹو مارکیٹ میں شدید مندی؛ بٹ کوائن ایک ہفتے میں 13 فیصد گر گیا
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بِٹ کوائن رواں سال کے اختتام پر 6 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ بند ہونے جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ 2 برسوں میں اس نے سالانہ بنیادوں پر نمایاں منافع دیا تھا۔ اس وقت بِٹ کوائن کی قیمت تقریباً 87 ہزار 474 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے بعد بِٹ کوائن اپنی مضبوط پوزیشن بحال کرنے میں ناکام رہا، جبکہ گزشتہ ماہ اسے وسط 2021 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
سال کے آغاز میں امریکا میں کرپٹو دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد کرپٹو کرنسیز میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، تاہم اپریل میں ٹیرف سے متعلق اعلانات کے بعد کرپٹو اور اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی آ گئی۔ بعد ازاں مارکیٹ نے کچھ بحالی دکھائی اور اکتوبر کے اوائل میں بِٹ کوائن 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر سے زائد کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟
تاہم 10 اکتوبر کو چین کی درآمدات پر نئے ٹیرف اور اہم سافٹ ویئر کی برآمدات محدود کرنے کی دھمکیوں کے بعد مارکیٹ ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں لیوریجڈ کرپٹو مارکیٹ میں 19 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ لیکویڈیشن ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران بِٹ کوائن کا رویہ روایتی رسک اثاثوں جیسا ہو گیا ہے اور کئی مواقع پر اس کی حرکت امریکی اسٹاک مارکیٹ سے جڑی نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے جیسے روایتی اور ادارہ جاتی سرمایہ کار کرپٹو مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، ویسے ویسے بِٹ کوائن کا تعلق اسٹاکس، مانیٹری پالیسی اور عالمی مالیاتی خدشات سے مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بٹ کوائن صدر ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بٹ کوائن مارکیٹ میں ب ٹ کوائن کے بعد سال کے
پڑھیں:
پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
پاکستان کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کے 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ کے آغاز پر شاہین نے پہلی ہی گیند پر آسٹریلوی اوپنر الیکس کیری کو بولڈ کر کے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام درج کرا دیا۔
شاہین شاہ آفریدی اب پاکستان کے صرف تیسرے کپتان بن گئے ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں حریف ٹیم کی اننگز کی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی۔ اس سے قبل یہ کارنامہ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس انجام دے چکے ہیں۔
A unique feat for Pakistan captain @iShaheenAfridi today ????
➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.co/5mBlUcoG8g
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS | #TakraarKaTime | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/lh6zWbjS25
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026
وسیم اکرم نے سنہ 1993 میں کراچی میں زمبابوے کے خلاف اینڈی فلاور کو پہلی گیند پر آؤٹ کیا تھا جبکہ وقار یونس نے 2001 میں لیڈز میں انگلینڈ کے مارکس ٹریسکوتھک کو ابتدائی گیند پر پویلین بھیجا تھا۔
پہلی گیند پر وکٹ لینے والے پاکستانی کپتان
وسیم اکرم: سنہ 1993 بمقابلہ زمبابوے (کراچی)
وقار یونس: سنہ 2001 بمقابلہ انگلینڈ (لیڈز)
شاہین شاہ آفریدی: سنہ 2026 بمقابلہ آسٹریلیا (لاہور)
شاہین آفریدی نے صرف ابتدائی وکٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آسٹریلیا کے مزید 2 کھلاڑیوں کو بھی آؤٹ کیا۔ انہوں نے 47ویں اوور میں میتھیو کوہنیمن اور 49ویں اوور میں نیتھن ایلس کی وکٹ حاصل کی اور 8 اوورز میں 36 رنز دے کر 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
مزید پڑھیے: شاہین آفریدی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے
شاہین کے علاوہ حارث رؤف، ابرار احمد اور عرفات منہاس نے بھی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا جس کے باعث آسٹریلوی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز تک محدود رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں