کراچی، نیشنل اسٹیڈیم روڈ پر متاثرہ پانی کی لائن کا مرمتی کام مکمل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں نیشنل اسٹیڈیم روڈ پر واٹر کارپوریشن کی 48 انچ قطر کی ڈایا لائن متاثر ہونے کے معاملے پر مرمتی کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق مرمت کی تکمیل کے بعد جمشید ٹاؤن اور گلشن ٹاؤن کے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ لیکیج کی اطلاع ملتے ہی واٹر کارپوریشن کی فیلڈ ٹیموں نے ہنگامی بنیادوں پر ڈی واٹرنگ اور مرمتی کام شروع کیا، جسے فیلڈ اسٹاف کی بروقت کارروائی اور مسلسل محنت کے باعث مقررہ وقت میں مکمل کر کے لائن کو دوبارہ فعال کر دیا گیا۔
کراچی میں رواں ماہ 88 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہوا، واٹر کارپوریشن
کراچی میں پانی کا بحران، واٹر کارپوریشن نے قلت کی اصل وجہ بتا دی
مرمتی کام کے دوران شہریوں کو عارضی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر واٹر کارپوریشن نے معذرت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق واٹر کارپوریشن کی جانب سے پانی کی لائنوں کی مسلسل نگرانی اور بروقت مرمت کا عمل جاری ہے تاکہ شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل واٹر کارپوریشن مرمتی کام پانی کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔