Jasarat News:
2026-07-24@03:03:25 GMT

صاف پانی کی عدم فراہمی: میئرکراچی سے جواب طلب

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260102-08-7
کراچی ( اسٹاف رپورٹر)شاہ فیصل کالونی میں صاف پانی کی عدم فراہمی کا معاملہ‘سندھ ہائیکورٹ نے میئر کراچی ، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن و دیگر سے 9 فروری تک جواب طلب کرلیا ۔چیئرمین یوسی 3 گرین ٹاؤن سمیت تین شہریوں کی درخواست پر سماعت سندھ ہائیکورت میں ہوئی جہاں عدالت نے میئر کراچی و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن و دیگر سے 9 فروری تک جواب طلب کرلیا سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عثمان فاروق ایڈوکیٹ کاکہنا ہے کہ پچاس سال بوسیدہ پرانی لائنوں میں ٹوٹ پھوٹ کے باعث سیویج کا گندا پانی لائنوں میں شامل ہورہا ہے، شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں گندا پانی فراہم کیا جارہا ہے، گندے پانی سے علاقے میں ہیٹ کی بیماری اور جلدی امراض پھیل رہے ہیں، صاف پانی کی فراہمی اور صحت مند ماحول کی فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے، آئین کے تحت شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے،واٹر کارپوریشن اور محکمہ بلدیات کو متعدد بار درخواستیں دینے کے باوجود گندے پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے، سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے باوجود بوسیدہ لائنیں تبدیل نہیں کی جارہیں، واٹر کارپوریشن کو علاقے کی تمام بوسیدہ لائنوں کو تبدیل کرنے اور صاف پانی کی فراہمی کا حکم دیا جائے، منظور کی گئی اسکیموں کو فوری شروع کرنے کا حکم دیا جائے، واٹر کارپوریشن حکام سے مختص کیا گیا بجٹ اور غیر استعمال شدہ فنڈ سے متعلق رپورٹ طلب کی جائے، درخواست میں سیکریٹری بلدیات، میئر کراچی اور سی ای او واٹر پوریشن و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صاف پانی کی کی فراہمی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار