متوفی ملازمین کے ورثا کیلیے ملازمت کوٹہ سمیت سپریم کورٹ کے اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر بچوں اور ورثا کو ملازمت دینے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں مسترد کر دیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ اہم فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔
عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ کا رول 11-A ایک فلاحی اور عوام دوست قانون ہے، جس کا بنیادی مقصد دورانِ ملازمت وفات پانے والے، معذور ہونے والے یا نااہل قرار دیے گئے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو معاشی سہارا فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایسے قوانین کی تشریح ہمیشہ وسیع تر سماجی مقاصد اور ہمدردانہ انداز میں کی جانی چاہیے تاکہ اصل مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی سرکاری ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس ضمن میں جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد کیس کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق ماضی کے معاملات پر نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سرکاری ملازمین کے ورثا کے لیے ایک بڑی قانونی اور اخلاقی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ہزاروں ایسے خاندانوں کو امید ملی ہے جو برسوں سے ملازمت کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے اہل خانہ کو بے سہارا نہ چھوڑے۔
دریں اثنا جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم ایک اور بینچ نے منشیات کے ایک مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143 کے منافی ہے۔ اس مقدمے میں درخواست گزار ساجد خان کے خلاف ایف آئی آر کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت درج کی گئی تھی تاہم ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے خیبر پختونخوا کے قانون کے تحت سزا سنائی جو وفاقی قانون سے زیادہ سخت تھی۔
سپریم کورٹ نے وفاقی قانون کو صوبائی قانون پر فوقیت دیتے ہوئے ساجد خان کی صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دے دی اور وفاقی قانون کے مطابق 5 سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
عدالت نے ایک اور مقدمے میں نابالغ لڑکے کے قتل کے کیس میں ملزم کی عمر قید میں نرمی کرتے ہوئے اسے 20 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل کر دیا۔ عدالت کے مطابق یہ واقعہ اچانک جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں پیش آیا تھا اور پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہیں ہوتی، تاہم مقتول کے ورثا کو دی جانے والی دیت اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا برقرار رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی قانون سپریم کورٹ ملازمین کے عدالت نے قانون کے کے تحت
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :