آسٹریلیا کے تجربہ کار کرکٹر عثمان خواجہ نے ایشز سیریز کے آغاز پر اپنی انجری سے متعلق ہونے والی تنقید کو نسلی تعصب سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے پورے کیریئر میں نسل اور مذہب کی بنیاد پر دیگر کھلاڑیوں سے مختلف اور سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایس سی جی میں ریٹائرمنٹ کے اعلان کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان خواجہ نے پہلی بار کھل کر اس تکلیف کا اظہار کیا جو انہیں میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی تنقید سے پہنچی۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان خواجہ کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، سڈنی ٹیسٹ کیریئر کا آخری باب ہوگا

عثمان خواجہ نے کہا کہ ایشز سیریز کے آغاز پر کمر کی انجری کے بعد ان پر گالف کھیلنے کو بنیاد بنا کر جو تنقید کی گئی، وہ محض کھیل تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ذاتی اور نسلی پہلو نمایاں تھے۔ ان کے مطابق انہیں 5 دن تک مسلسل نشانہ بنایا گیا، حالانکہ بات کارکردگی کی نہیں بلکہ ان کی نیت، تیاری اور کردار پر حملے کی تھی۔

Australian cricketer Usman Khawaja used his retirement speech to take aim at “right wing politicians” and their rhetoric on mass immigration and Islam, defending his views by appealing to inclusivity and pointing to his own background and mixed race family as an example.

pic.twitter.com/IaesxmVUMB

— Australians vs. The Agenda (@ausvstheagenda) January 2, 2026

پاکستان میں پیدا ہونے والے اور آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پہلے مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں ’سست‘، ’غیر سنجیدہ‘ اور ’خود غرض‘ جیسے القابات دیے گئے، جو وہی نسلی دقیانوسی تصورات ہیں جن کا وہ بچپن سے سامنا کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں دیگر آسٹریلوی کھلاڑی بھی گالف کھیلتے ہوئے یا تفریحی سرگرمیوں کے دوران زخمی ہوئے، مگر انہیں اس نوعیت کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بعض کھلاڑیوں کے شراب نوشی کے واقعات کو بھی نظر انداز کیا گیا، لیکن جب وہ زخمی ہوئے تو ان کی ساکھ پر سوال اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ کی بیٹیوں کے ہمراہ نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

عثمان خواجہ نے شیفیلڈ شیلڈ میچ نہ کھیلنے اور فارمولا ون گراں پری میں شرکت پر ہونے والی تنقید کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اسی دوران دیگر معروف کھلاڑیوں کی غیر حاضری پر میڈیا خاموش رہا، جس سے دوہرے معیار کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ باتیں شہرت یا ہمدردی کے لیے نہیں کر رہے بلکہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں آنے والے کسی بھی عثمان خواجہ کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کیا جائے، بغیر نسل یا مذہب کو بنیاد بنائے۔ ان کے الفاظ میں ’میں ریس کارڈ نہیں کھیل رہا، بس یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اور میرے بعد آنے والوں کو گیس لائٹ نہ کیا جائے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا عثمان خواجہ نسلی تعصب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا سٹریلیا عثمان خواجہ نسلی تعصب عثمان خواجہ نے کہا کہ

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی