اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت رفح سرحدی گزرگاہ کو فلسطینی اور مصری دونوں جانب سے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس معاہدے پر عملی کام نیتن یاہو کے موجودہ امریکی دورے سے واپسی کے فوراً بعد شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت کو غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے انتظام سے متعلق علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

عبرانی چینل کے مطابق تل ابیب میں متعلقہ حکام نے رفح گزرگاہ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے انتظامی اور سکیورٹی تیاریوں کا آغاز بھی کر دیا ہے، تاکہ طے شدہ مفاہمتوں کے مطابق اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نئی امریکی انتظامیہ غزہ کی صورتحال کو کم کرنے اور افراد و سامان کی نقل و حرکت کو منظم بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ رفح گزرگاہ کو غزہ کے لیے ایک انتہائی اہم اور حیاتیاتی راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین، اسرائیل نے 37 امدادی این جی اوز پر پابندی لگا دی

جیکی چین غزہ کے معصوم بچوں کی حالت زار پر رو پڑے

دوسری جانب گزشتہ منگل کو برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ تک انسانی امداد کی فراہمی بڑھانے کے لیے تمام سرحدی گزرگاہیں کھولنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ سخت کسٹمز طریقہ کار اور تلاشی کے عمل کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں شدید تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ تجارتی سامان کو نسبتاً آسانی سے داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ وزرائے خارجہ نے ہفتہ وار 4200 امدادی ٹرکوں کے ہدف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے کم از کم حد قرار دیا۔

انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال کے دوبارہ بگڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شدید سرد موسم، پناہ گاہوں کی کمی اور طبی سہولتوں کی قلت نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

بیان کے مطابق اب بھی 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے، جبکہ نصف سے زائد طبی مراکز جزوی طور پر کام کر رہے ہیں اور لاکھوں افراد سیلاب اور گندے پانی کے خطرات سے دوچار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف