معروف اینکر اور پروگرام میزبان اقرار الحسن نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ یہ صرف ان کی نئی تحریک کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔

ایک انٹرویو میں اقرار الحسن نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اگلے سو سالوں میں بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ عمران خان کو رہا کروا سکتی ہے۔ جس پارٹی میں ہر شخص دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور ایک دوسرے کو ٹاؤٹ کہہ رہا ہے وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتی۔

پی ٹی آئی جس طرح چل رہی ہے یہ کبھی بھی عمران خان کو رہا نہیں کروا سکتی۔
عمران خان کی رہائی صرف ایک نئی اور منظم قومی اور عوامی جماعت ممکن بنا سکتی ہے، اس اصول کے تحت کہ آج سے پہلے بھی سیاسی انتقام غلط تھا، آج بھی غلط ہے اور آئیندہ کبھی نہیں ہونا چاہئے۔ pic.

twitter.com/zrSWlgPJLo

— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) January 1, 2026

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہماری تحریک رہا کروائے گی۔عمران خان کی رہائی صرف ایک نئی اور منظم قومی اور عوامی جماعت ممکن بنا سکتی ہے، جس کا مقصد سیاسی انتقام کے عمل کو ختم کرنا اور آئندہ اسے روکنا ہے۔

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ آج سے پہلے بھی سیاسی انتقام غلط تھا، آج بھی غلط ہے اور آئندہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ کو روکنے کے لیے عمران خان کو سیاسی انتقام سے بچانا ہو گا اور اس سلسلے کو روکنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی

 واضح رہے کہ معروف اینکر اقرار الحسن نے پاکستان میں تبدیلی لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا واحد مقصد عوام کو بااختیار بنانا اور حقیقت میں نیا پاکستان بنانا ہے جس کا وعدہ تو کیا گیا مگر عملی جامع نہیں پہنایا گیا۔

انہوں نے پارٹی کا نام بتائے بغیر یہ بھی بتایا کہ نئی سیاسی جماعت 15 جنوری 2026 کو لانچ کرنے جارہا ہوں اور ہم پھر الیکشن کی بھرپور تیاری کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت پی ٹی آئی عمران خان عمران خان جیل عمران خان رہائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت پی ٹی ا ئی عمران خان جیل عمران خان رہائی سیاسی انتقام عمران خان کو اقرار الحسن پی ٹی آئی نے کہا

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان