عمران خان کو پی ٹی آئی نہیں ہماری تحریک رہا کروائے گی، اقرار الحسن کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
معروف اینکر اور پروگرام میزبان اقرار الحسن نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ یہ صرف ان کی نئی تحریک کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔
ایک انٹرویو میں اقرار الحسن نے کہا کہ پی ٹی آئی سے اگلے سو سالوں میں بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ عمران خان کو رہا کروا سکتی ہے۔ جس پارٹی میں ہر شخص دوسرے پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور ایک دوسرے کو ٹاؤٹ کہہ رہا ہے وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکتی۔
پی ٹی آئی جس طرح چل رہی ہے یہ کبھی بھی عمران خان کو رہا نہیں کروا سکتی۔
عمران خان کی رہائی صرف ایک نئی اور منظم قومی اور عوامی جماعت ممکن بنا سکتی ہے، اس اصول کے تحت کہ آج سے پہلے بھی سیاسی انتقام غلط تھا، آج بھی غلط ہے اور آئیندہ کبھی نہیں ہونا چاہئے۔ pic.
— Iqrar ul Hassan Syed (@iqrarulhassan) January 1, 2026
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہماری تحریک رہا کروائے گی۔عمران خان کی رہائی صرف ایک نئی اور منظم قومی اور عوامی جماعت ممکن بنا سکتی ہے، جس کا مقصد سیاسی انتقام کے عمل کو ختم کرنا اور آئندہ اسے روکنا ہے۔
اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ آج سے پہلے بھی سیاسی انتقام غلط تھا، آج بھی غلط ہے اور آئندہ کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ کو روکنے کے لیے عمران خان کو سیاسی انتقام سے بچانا ہو گا اور اس سلسلے کو روکنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں عمران خان کے پوسٹر والے ٹرک پر نامعلوم افراد نے سیاہی پھینک دی
واضح رہے کہ معروف اینکر اقرار الحسن نے پاکستان میں تبدیلی لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا واحد مقصد عوام کو بااختیار بنانا اور حقیقت میں نیا پاکستان بنانا ہے جس کا وعدہ تو کیا گیا مگر عملی جامع نہیں پہنایا گیا۔
انہوں نے پارٹی کا نام بتائے بغیر یہ بھی بتایا کہ نئی سیاسی جماعت 15 جنوری 2026 کو لانچ کرنے جارہا ہوں اور ہم پھر الیکشن کی بھرپور تیاری کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت پی ٹی آئی عمران خان عمران خان جیل عمران خان رہائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقرار الحسن اقرار الحسن سیاسی جماعت پی ٹی ا ئی عمران خان جیل عمران خان رہائی سیاسی انتقام عمران خان کو اقرار الحسن پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم