عدالت نے کہا کہ ویجیلنس آرگنائزیشن کے ذریعہ محض ایک یا زیادہ مقدمات کا اندراج لازمی ریٹائرمنٹ کی بنیاد نہیں بن سکتا، عدالت نے پایا کے مجاز اتھارٹی خان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے ایک انجینیئر کی بحالی کو برقرار رکھتے ہوئے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی انٹرا کورٹ اپیل کو خارج کر دیا۔ انجینیئر کو بدعنوانی کے کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بنیاد پر قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ طے شدہ قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس سنجیو کمار اور سنجے پریہار کی ڈویژن بنچ نے 2018ء کے رٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ رٹ کورٹ نے سرینگر کے رہائشی انجینیئر احسن الحق خان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے انتظامیہ کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا اور ان کی تمام مراعات کے ساتھ بحالی کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ ویجیلنس آرگنائزیشن کے ذریعہ محض ایک یا زیادہ مقدمات کا اندراج لازمی ریٹائرمنٹ کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے پایا کے مجاز اتھارٹی خان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اپیل اس وقت کی ریاست جموں و کشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے کمشنر سیکرٹری کے ذریعے ایس ڈبلیو پی نمبر 210/2017، احسن الحق خان بمقابلہ ریاست جموں و کشمیر کے پانچ ستمبر 2018ء کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔ خان کو ابتدائی طور پر دسمبر 1982 میں محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگز میں سیکشن آفیسر (جو اب جونیئر انجینئر کی پوسٹ ہے) کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ کئی سالوں کے دوران انہوں نے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے مختلف شاخوں میں کام کیا اور آخری بار دیہی انجینئرنگ ونگ، سب ڈویژن زین پورہ، شوپیاں کے اسسٹنٹ انجینئر انچارج کے طور پر تعینات ہوئے۔

2011ء میں جموں و کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ اور رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کے تحت ایف آئی آر نمبر 24/2011 میں نامزد ہونے کے بعد انجینیئر احسن الحق خان کو معطل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ خان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو ذاتی انتقام قرار دیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ غیر منقطع کرنسی ایسی جگہ سے برآمد ہوئی جو ان (انجینیئر احسن الحق خان) کی تحویل میں ہی نہیں تھی۔ حکومت نے انہیں جولائی 2015ء دوبارہ بحال کیا۔ تاہم نومبر 2016ء میں انہیں دو لاکھ روپے سے زیادہ کا چیک دیا گیا اور یکم جولائی 2015ء سے قبل از وقت ریٹائر ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

رٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ڈویژن بنچ نے کہا کہ اسکریننگ کمیٹی اور متعلقہ اتھارٹی نے سروس رولز کے تحت ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایف آئی آر میں خان کو شامل کرنے پر مکمل انحصار کیا۔ اپنے 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ ایف آئی آر کے علاوہ کسی اور متعلقہ مواد پر غور نہیں کیا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ خان کی سروس بک، سالانہ کارکردگی رپورٹ یا ماضی کے طرز عمل کو جانچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

بنچ نے کمیٹی کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ خان کی عوامی ساکھ خراب ہے، اسے بغیر ثبوت کے ایک بڑا نتیجہ قرار دیا۔ ججوں نے کہا کہ بغیر کسی معاون ثبوت کے ایک ہی بیان کسی کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے، بنچ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تادیبی کارروائی سے بچنے کے لئے لازمی ریٹائرمنٹ کو شارٹ کٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست گجرات بمقابلہ سوریہ کانت چننی لال شاہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہونا جرم نہیں بنتا اور یہ اپنے آپ میں روزی روٹی سے محرومی کا جواز نہیں بن سکتا۔

بنچ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے اپنے ذہن کا اطلاق نہیں کیا اور خود کو مطمئن کیے بغیر کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرلیا۔ رٹ کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے، ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اپیل خارج کر دی۔ بنچ نے کہا کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا حکم "قانون کے خلاف" ہے۔ بنچ نے حکومت کو بحالی کے حکم کی تعمیل کے لئے آٹھ ہفتوں کا وقت دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر حکم کی عدم تعمیل ہوئی تو اسے جان بوجھ کر کی گئی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور خان کو توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا اختیار دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عدالت نے کہا کہ احسن الحق خان کورٹ کے فیصلے کے فیصلے کو ایف آئی آر ہائی کورٹ کی بنیاد دیا گیا رٹ کورٹ نہیں کی خان کو کر دیا

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی