صرف ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کا مستقبل ختم کر دینا درست نہیں ہے، جموں کشمیر ہائی کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
عدالت نے کہا کہ ویجیلنس آرگنائزیشن کے ذریعہ محض ایک یا زیادہ مقدمات کا اندراج لازمی ریٹائرمنٹ کی بنیاد نہیں بن سکتا، عدالت نے پایا کے مجاز اتھارٹی خان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے ایک انجینیئر کی بحالی کو برقرار رکھتے ہوئے یونین ٹیریٹری انتظامیہ کی انٹرا کورٹ اپیل کو خارج کر دیا۔ انجینیئر کو بدعنوانی کے کیس میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بنیاد پر قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ طے شدہ قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس سنجیو کمار اور سنجے پریہار کی ڈویژن بنچ نے 2018ء کے رٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ رٹ کورٹ نے سرینگر کے رہائشی انجینیئر احسن الحق خان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے انتظامیہ کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا اور ان کی تمام مراعات کے ساتھ بحالی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ ویجیلنس آرگنائزیشن کے ذریعہ محض ایک یا زیادہ مقدمات کا اندراج لازمی ریٹائرمنٹ کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے پایا کے مجاز اتھارٹی خان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اپیل اس وقت کی ریاست جموں و کشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے کمشنر سیکرٹری کے ذریعے ایس ڈبلیو پی نمبر 210/2017، احسن الحق خان بمقابلہ ریاست جموں و کشمیر کے پانچ ستمبر 2018ء کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی تھی۔ خان کو ابتدائی طور پر دسمبر 1982 میں محکمہ روڈز اینڈ بلڈنگز میں سیکشن آفیسر (جو اب جونیئر انجینئر کی پوسٹ ہے) کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ کئی سالوں کے دوران انہوں نے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے مختلف شاخوں میں کام کیا اور آخری بار دیہی انجینئرنگ ونگ، سب ڈویژن زین پورہ، شوپیاں کے اسسٹنٹ انجینئر انچارج کے طور پر تعینات ہوئے۔
2011ء میں جموں و کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ اور رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی) کے تحت ایف آئی آر نمبر 24/2011 میں نامزد ہونے کے بعد انجینیئر احسن الحق خان کو معطل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ خان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو ذاتی انتقام قرار دیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ غیر منقطع کرنسی ایسی جگہ سے برآمد ہوئی جو ان (انجینیئر احسن الحق خان) کی تحویل میں ہی نہیں تھی۔ حکومت نے انہیں جولائی 2015ء دوبارہ بحال کیا۔ تاہم نومبر 2016ء میں انہیں دو لاکھ روپے سے زیادہ کا چیک دیا گیا اور یکم جولائی 2015ء سے قبل از وقت ریٹائر ہونے کا حکم دیا گیا۔ اس کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
رٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ڈویژن بنچ نے کہا کہ اسکریننگ کمیٹی اور متعلقہ اتھارٹی نے سروس رولز کے تحت ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایف آئی آر میں خان کو شامل کرنے پر مکمل انحصار کیا۔ اپنے 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ ایف آئی آر کے علاوہ کسی اور متعلقہ مواد پر غور نہیں کیا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ خان کی سروس بک، سالانہ کارکردگی رپورٹ یا ماضی کے طرز عمل کو جانچنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
بنچ نے کمیٹی کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ خان کی عوامی ساکھ خراب ہے، اسے بغیر ثبوت کے ایک بڑا نتیجہ قرار دیا۔ ججوں نے کہا کہ بغیر کسی معاون ثبوت کے ایک ہی بیان کسی کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے، بنچ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تادیبی کارروائی سے بچنے کے لئے لازمی ریٹائرمنٹ کو شارٹ کٹ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ریاست گجرات بمقابلہ سوریہ کانت چننی لال شاہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہونا جرم نہیں بنتا اور یہ اپنے آپ میں روزی روٹی سے محرومی کا جواز نہیں بن سکتا۔
بنچ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے اپنے ذہن کا اطلاق نہیں کیا اور خود کو مطمئن کیے بغیر کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرلیا۔ رٹ کورٹ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے، ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اپیل خارج کر دی۔ بنچ نے کہا کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا حکم "قانون کے خلاف" ہے۔ بنچ نے حکومت کو بحالی کے حکم کی تعمیل کے لئے آٹھ ہفتوں کا وقت دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر حکم کی عدم تعمیل ہوئی تو اسے جان بوجھ کر کی گئی عدالت کے حکم کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور خان کو توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کا اختیار دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عدالت نے کہا کہ احسن الحق خان کورٹ کے فیصلے کے فیصلے کو ایف آئی آر ہائی کورٹ کی بنیاد دیا گیا رٹ کورٹ نہیں کی خان کو کر دیا
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔