افغانستان میں شدید بارشوں اور برفباری کے بعد تباہ کن سیلاب، 17 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
افغانستان میں موسمِ سرما کی پہلی شدید بارشوں اور برفباری کے بعد مختلف علاقوں میں سیلاب آ گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے۔
افغانستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان محمد یوسف حماد نے بتایا کہ طویل خشک سردی کے بعد اچانک ہونے والی طوفانی بارش نے وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر دیے۔
ترجمان کے مطابق سیلاب سے کئی اضلاع میں گھروں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ مال مویشی بھی بہہ گئے۔ مجموعی طور پر 1800 سے زائد خاندان اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیںافغانستان عالمی تنہائی کا شکار، جاپان نے بھی افغان سفارت خانہ بند کر دیا
افغانستان؛ طالبان نے موسیقی کے سیکڑوں آلات ضبط کرکے نذرِ آتش کر دیئے
انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ حکام کو سروے کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق افغانستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے اور ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وسائل کی کمی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں اور انفراسٹرکچر کی تباہی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔