پشاور میں کار سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پشاور:
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق فورس گزشتہ کچھ عرصے سے پشاور اور باڑہ کے علاقوں میں سرگرم منشیات اسمگلروں کے ایک منظم گروہ کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کر رہی تھی۔ یہ گروہ مختلف کیریئرز کے ذریعے پشاور سے ملاکنڈ تک منشیات کی ترسیل میں ملوث تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مصدقہ خفیہ اطلاع پر پشاور میں عبدرہ کرکٹ گراؤنڈ، ریلوے لائن روڈ کے قریب ایک مشکوک سوزوکی مہران گاڑی کو روکا گیا۔ تلاشی کے دوران گاڑی میں موجود لاؤڈ اسپیکر باکس سے مہارت سے چھپائے گئے چرس کے 8 پیکٹس برآمد ہوئے۔
ہر پیکٹ کا وزن 1200 گرام تھا جبکہ برآمد ہونے والی منشیات کا مجموعی وزن 9.
اے این ایف کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔