سپریم کورٹ نے عمر قید کاٹنے والے ملزم کو قتل کے مقدمے سے بری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کاٹنے والے ملزم محمد صدیق کو مقدمے سے بری کردیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد صدیق کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو شواہد کے غلط جائزے پر مبنی قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے سزا بڑھانے کے لیے دائر درخواست غیر مؤثر قرار دے کر خارج کردی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرا ہوا ہے، مبینہ عینی شاہدین کی موجودگی موقع پر مشکوک ہے، گواہوں کے بیانات میں تضادات اور غیر فطری پہلو پائے جاتے ہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر استغاثہ کے لیے نقصان دہ ہے۔
راولپنڈی:ہسپتال کے واش روم میں خواتین کی ویڈیوز بنانے والا گرفتار
عدالت نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میں غیر وضاحتی تاخیر نے بھی استغاثہ کے مؤقف کو مزید کمزور کیا، استغاثہ قتل کا محرک ثابت کرنے میں ناکام رہا، برآمدگی اور فرانزک شواہد براہِ راست ناقابل اعتماد شہادت کے بغیر مؤثر نہیں، محض ایک معقول شک بھی ملزم کو فائدہ دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے محمد صدیق کو دفعہ 302 (b) کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔
9 مئی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر، معید پیرزادہ کو عمر قید کی سزا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ نے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔