اسلامی بینکاری اصطلاحات تک محدود نہیں رہنی چاہیئے، ڈاکٹر شاہد حسن کا موقف تسلیم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: چیئرمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامی بینکنگ اینڈ فنانس ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حالیہ بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی بینکاری صرف نام یا اصطلاحات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے تمام کاروباری اور مالیاتی معاملات میں عملی طور پر جھلک نظر آنا ضروری ہے۔
چیئرمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامی بینکنگ اینڈ فنانس ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے واضح کیا کہ 24 دسمبر 2025 کو اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اسلامی بینکنگ کے اصولوں کو صرف دستاویزی یا رسمی شکل میں نہیں بلکہ حقیقی کاروباری عمل میں بروئے کار لانا لازم ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے 23 سال قبل اسلامی بینکنگ کے لیے جو رہنما اصول مقرر کیے تھے، ان میں واضح طور پر کہا گیا کہ یہ نظام اسلام کی روح، سماجی اخلاقیات اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ تاہم عملی طور پر اسلامی بینکاری کے نام پر کام کرنے والے بینک اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
انہوں نے بتایا کہ 2006 سے قبل بھی وہ بار بار یہ نشاندہی کر چکے ہیں کہ موجودہ اسلامی بینکنگ مروجہ سودی نظام کی پیروی کرتی ہے اور بعض معاملات میں غیر اسلامی عناصر شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ میری کتاب ’’اسلامی بینکاری: غیر سودی یا سودی واستحصالی؟‘‘ کے اشاعت کے بعد بھی سامنے آیا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسٹیٹ بینک اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے سے گریزاں ہے۔
ڈاکٹر صدیقی نے اپنی کتاب میں یہ بات بھی اٹھائی تھی کہ اسلامی بینکاری کے نام پر کام کرنے والے بینک دراصل مکمل اسلامی بینک نہیں ہیں، کیونکہ ان کی پروڈکٹس میں سود شامل ہوتا ہے، فنانسنگ میں شریعت کے مقاصد نظر انداز کیے جاتے ہیں اور کھاتہ داروں کو سودی بینکوں کے مقابلے میں کم شرح سے منافع دیا جاتا ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ موجودہ اسلامی بینکوں کو فوری طور پر بلاسودی بینک کے طور پر شناخت کیا جائے اور ان کی تمام مصنوعات اور کاروباری عمل سے سود کا ہر شائبہ ختم کیا جائے، تاکہ انہیں حقیقی غیر سودی بینک کہا جا سکے۔
ڈاکٹر صدیقی نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک کو اسلامی بینکاری کے نام پر کام کرنے والے بینکوں کو بلاوجہ اسلامی بینک کہنے سے روک دینا چاہیے، کیونکہ اس سے اسلام کے نام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ڈاکٹر صدیقی نے خبردار کیا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے باوجود 2027 تک معیشت سے سود کے خاتمے کا کوئی واضح امکان نہیں، اور حکومت، اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے سود پر مبنی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر اسلامی بینکوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو کہ مستقبل میں اسلامی بینکاری کے نام پر سودی نظام کو فروغ دینے کے مترادف ہوگا۔
یہ صورتحال کاروباری اور مالیاتی حلقوں میں تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں ماہرین کہتے ہیں کہ اسلامی بینکاری کی حقیقی روح اور شریعت کے مطابق عمل درآمد کے بغیر اس کے نام کی ساکھ کمزور ہو رہی ہے، اور مستقبل میں اس شعبے کی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی بینکاری کے نام پر ڈاکٹر شاہد حسن اسلامی بینکنگ اسلامی بینک اسٹیٹ بینک کہ اسلامی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔