بولڈ لباس پہن کر پرفارم کرتی تو سیٹ پر موجود مردوں سے نظریں ہٹانے کا کہہ دیا جاتا تھا، عالیہ علی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پاکستان کی معروف اداکارہ اور ماڈل عالیہ علی اپنے متنازع بیان کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔
عالیہ نے 2010 میں پی ٹی وی کے ڈرامہ زنداں سے شوبز کیریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد بے گناہ، رنگ لگا، خلش، گل و گلزار، یہ ہے زندگی، بندھن، بھروسہ پیار تیرا، تقدیر اور کفارہ جیسے کامیاب ڈراموں میں اداکاری کر کے اپنی پہچان بنائی۔
حال ہی میں انہیں ڈرامہ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں بھی خوب سراہا گیا۔ سوشل میڈیا پر بھی وہ خاصی مقبول ہیں، جہاں ان کے ٹک ٹاک پر 20 لاکھ سے زائد اور انسٹاگرام پر 14 لاکھ فالوورز موجود ہیں۔
حال ہی میں عالیہ علی اپنی فلم ’آئٹم‘ کی تشہیر کے لیے نادیہ خان کے مارننگ شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے بولڈ مناظر کی شوٹنگ سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔
عالیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بولڈ مناظر یا لباس پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ اس کے پیچھے ایک وجہ ہوتی تھی۔
ان کے مطابق اگر یہ فلم ایک خاتون نہ بنارہی ہوتیں تو میں شاید اس میں کبھی کام نہ کرتی۔
عالیہ نے کہا کہ فلم کی پروڈیوسر ہما شیخ شوٹنگ کے دوران اعلان کرواتی تھیں کہ عالیہ آرہی ہیں تاکہ وہاں موجود مرد عملہ اپنی نگاہیں دوسری جانب کرلے، کیونکہ مجھے غیر مردوں کے سامنے نامناسب لباس میں جھجھک محسوس ہوتی تھی۔
عالیہ نے مزید کہا کہ پھر اس کے بعد میں آرام سے سین شوٹ کروالیتی تھی۔
View this post on Instagram
A post shared by @pakistani__diary
عالیہ علی کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آرہا ہے۔کئی صارفین نے ان کے مؤقف کا مذاق اڑایا اور مختلف طنزیہ تبصرے کیے، جبکہ کچھ نے ان کی وضاحت کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عالیہ علی
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔