جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ، سال کا دوسرا دن ہے۔ 2 جنوری، 2026۔ کیا آپ نے اس سال کی نیو ایئر ریزولیوشن لسٹ بنائی ہے؟ یعنی وہ عہد، وہ کمٹمنٹ جو آدمی اپنے آپ سے ہر سال کے آغاز میں کرتا ہے؟
اگر نہیں تو کیوں ؟ اس کی وجہ جان سکتا ہوں؟ کہیں اس کی وہ وجہ تو نہیں جس کے باعث میں ہچکچا رہا تھا، تذبذب کا شکار ہوا؟
میں پچھلے دس بارہ برسوں سے سال کے آخری دن اخبار میں کالم لکھتا رہا اور نئے سال کے پہلے دن پر بھی میرا کالم چھپتا، جس میں سال کے حوالے سے اپنے عہد یعنی نیو ایئر ریزولیوشن ہوتے۔ آج کل اخبار میں اس طرح کالم نہیں لکھ رہا تو ارادہ تھا کہ رہنے دیا جائے۔ گزرے سال اور پھر نئے سال کے حوالے سے کچھ نہ لکھا جائے۔
گزشتہ روز شام تک میں اس عہد پر قائم تھا۔ وی نیوز کے لیے کالم کی ڈیڈ لائن تھی، دیگر موضوعات پر غور کرتا رہا۔ پھر اچانک عشا کے بعد خیال آیا کہ نیو ایئر ریزولیوشن کے حوالے سے کالم کیوں نہیں لکھ رہا ؟ کیا اس لیے کہ یہ عہد پورے نہیں ہوپاتے؟ یا اس لیے کہ اب اس درجہ مایوس ہوچکا ہوں کہ سرے سے اپنے اندر تبدیلی اور بہتری لانے کا ارادہ ہی ترک کر دیا جائے ، عہد ہی نہ کیے جائیں؟
یہ خیال آتے ہی جھٹکا سا لگا۔ مجھے خیال آیا کہ تبدیلی آ سکے یا نہ آئے، یہ تو الگ کہانی، الگ بحث ہے۔ تبدیلی کا خیال ہی ترک کر دینا، مایوس ہوجانا اور سرے سے خواب دیکھنا ہی بند کر دینا تو زیادہ بڑا ظلم ، زیادہ افسوسناک بات ہے۔ یہ خیال آتے ہی اپنی ریزولیوشن لسٹ بنائی، اس پر لکھنے بھی بیٹھ گیا۔
تو یارو ، ہم نے ایک بار پھر سے خواب دیکھے ہیں، اپنی آنکھوں میں نئے سپنے سجا لیے ۔ ان پر عمل پیرا ہونے کا عہد بھی کیا۔ اپنے ذاتی اسسٹنٹ یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس والے چھوٹے جن بھوتوں یعنی چیٹ جی پی ٹی، جیمنائی وغیرہ سے طویل مذاکرات اور مشاورت بھی کر ڈالی۔ اللہ نے چاہا تو اس سال بہت کچھ کر گزریں گے۔
ویسے میرا پچھلا سال برا نہیں رہا۔ 2025 بعض حوالوں سے مشکل رہا۔ باقاعدہ ریگولر جاب ختم ہونے کے بعد فری لانس رائٹنگ کا تجربہ کیا تھا۔ الحمدللہ کامیاب رہا۔ بڑے تواتر سے بہت سا لکھا۔ اپنی تحریروں پر پہلے سے بہت زیادہ محنت کی، بہت سے گھنٹے عرق ریزی کر کے کئی تحقیقی مضامین بھی لکھے، ان کی پذیرائی بھی زیادہ ہوئی۔ پچھلے سال کتاب پڑھنے کی طرف واپسی ہوئی۔ بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سی ڈاون لوڈ کر رکھی ہیں۔ انٹرنیشنل اخبارات ، جرائد پڑھنے کا سلسلہ بھی پھر سے شروع ہوا۔
ایک نیا اضافہ پوڈکاسٹ سننے کا ہوا، پڑوسی ملک سے مغرب تک کئی بڑے پوڈ کاسٹ اور وی لاگ والوں کو سنا۔ اچھا لگا۔ بہت کچھ نیا پڑھنے، سننے، سیکھنے کو ملا۔
الحمدللہ پچھلے سال ایک بڑی کامیابی ہوئی اور ہر سال ریزولیوشن لسٹ میں شامل سرفہرست آئٹم کوپہلی بار تکمیل کی طرف آگے بڑھایا۔ میرا چودہ پندرہ کلو وزن کم ہوا جس کے صحت پر بہت اچھے اثرات نکلے۔ 2024 کے آخر میں سانس اور ’سلیپ اپنیا‘ کا مسئلہ لاحق ہوگیا تھا۔ رات کو سونا محال ہوگیا ۔ الحمدللہ وزن کم ہونے سے وہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ خراٹے جو برسوں سے عادت بن چکی تھی، وہ بھی ختم ہوگئی۔ بے آواز پرسکون نیند اللہ کے فضل سے زندگی کا حصہ بنی۔ شوگر اور کولیسٹرول وغیرہ ماشااللہ سے آئیڈیل پوزیشن میں چلے گئے۔ اس سال ان شااللہ مزید بہتری ہوگی۔ پندرہ بیس کلو سال بھر میں مزید کم کرنے ہیں، ان شااللہ شوگر ریورس ہوگی۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا، اس پر کسی الگ نشست میں تفصیل سے لکھوں گا۔ سردست صرف اتنا بتا رہا ہوں کہ اگر آپ ایک بات ہر سال اپنے نیو ایئر ریزولیوشن میں لکھتے ہیں، مگر عمل نہیں کرپاتے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہر بار ناکام ہوں گے۔ اگر لگیں رہیں گے ، خواب دیکھیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے تو کسی سال کامیابی بھی نصیب ہو سکتی ہے۔ جیسے مجھے کامیابی ملی ۔ میرا لائف سٹائل بہتر ہوگیا۔ خوراک سے غیر صحت مند چیزیں کم ہوگئیں، کاربوہائیڈریٹس بہت کم کر کے ہائی پروٹین، ہائی فائبر ڈائیٹ کی عادت ڈالی۔ اس سے لطف اٹھانا بھی سیکھا۔
سب سے بڑی کامیابی مجھے یہ لگتی ہے کہ اللہ کے فضل اور کرم سے سال بھر استقامت سے کھڑا رہا۔ کسی غلط، منفی ترغیب میں نہیں آیا۔ وہی لکھا جو دل مانتا، دماغ کہتا ہے۔ ایک لفظ بھی ظالموں، استحصالی طبقات ، مافیاز کی مدح میں نہیں لکھا، الحمدللہ!
ایک اور چیز کی رب نے توفیق دی کہ دوسروں کے لیے ضرررساں بننے کے بجائے مفید بننے کی کوشش کی۔ جس حد تک ہوسکا، اپنی ذات سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کی۔ جو مشکلات آئیں، انہیں خود برداشت کیا، اپنے آس پاس اور نیچے والوں تک شفٹ نہیں کیا۔ اس کے ثمرات بھی ملے۔ آسانی رہی، بھرم قائم رہا۔ اطمینان، سکونِ ِقلب اور آسودگی رہی۔ الحمدللہ رب العالمین!
خیر یہ سب تو تحدیث نعمت کے طور پر بیان کیا۔ اصل مقصد یہ بتانا تھا کہ سال میں بہت کچھ اچھا رہا، جو عہد ابتدا میں کیے تھے، خاصی حد تک حاصل بھی ہوئے۔
ذاتی طور پر میں ہر سال ابتدائی دنوں میں نیو ایئر ریزولیوشن بنانے کے حق میں ہوں۔ یہ ایک طرح اپنے آپ سے کچھ باتیں کرنے، کچھ نہ کرنے کی کمٹمنٹ ہے۔ اس بہانے وقت کے تیز رفتار ریلے پر بہتی زندگی کی ناؤ کو چند لمحوں کی خاطر سہی، مگر کسی پڑاﺅ پر ٹھہرا کر نظر ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔ کچھ چیزوں کا محاسبہ، بعض باتوں کی یاد دہانی اور چند ایک اہم مگر زندگی میں مسنگ چیزوں کو شامل کرنے کی آرزو۔
زندگی ویسے بھی پلس اور مائنس کا کھیل ہی ہے۔ ہم ہمیشہ اس میں کچھ چیزیں شامل کرنا اور کچھ سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ آسانیاں اور سکون ہمیں پسند ہے، مشکلات، پریشانیوں سے زندگی کو پاک رکھنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہی ہے کہ زندگی ہماری شرائط پر نہیں چلتی۔وہ اپنے ایک خاص حساب کتاب سے ہمیں کچھ دیتی اور کچھ سے محروم رکھتی ہے۔ قدرت کی تقسیم تو اپنی جگہ، مگر بہت کچھ ہم اپنی سستی، کمزوری اور درست پلاننگ نہ ہونے سے بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ کئی شاندار مواقع ہمارے بالکل نزدیک موجود ہوتے ہیں۔ ہم جرات ہی نہیں کر پاتے۔
نیو ایئر ریزولوشن دراصل ہمیں اپنی پسند کی پلس، مائنس لسٹ بنانے کا موقع دیتے ہیں۔ہم کیا چاہتے ہیں، اس کے لیے کیا کر رہے ہیں، ان کی خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں۔ نئے سال پر خواہشات کی ننھی منی فہرست بنانا دراصل قدرت کو اپنی طرف متوجہ کرنے ، اسے بتانے کا ایک بہانہ ہے۔ طلب سچی اور عمل میں استقامت رہی تو کچھ نہ کچھ حاصل ہو ہی جائے گا، اگر نہ ہوا ، تب بھی اپنی وش لسٹ بنانے میں کیا حرج ہے؟
نئے سال کے عہد کی تاریخ دلچسپ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 4 ہزار سال قبل قدیم شہر بابل کے رہنے والے نئے سال کے شروع میں ایسے عہد کرتے تھے ۔ جدید زمانے میں امریکیوں نے سب سے زیادہ نیو ایئر کمٹمنٹس کے ٹرینڈ کو آگے بڑھایا ۔ مختلف سروے رپورٹوں کے مطابق 40 سے 50 فیصد امریکی اپنی انفرادی سطح پر نئے سال کے نئے عہد استوار کرتے ہیں۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ عہد جن سات آٹھ چیزوں کے حوالے سے کیے جاتے ہیں، ان میں سرفہرست وزن گھٹانا ہے۔
دوسرے نمبر پر روزانہ ورزش کا عہد کرنے والے لوگ ہیں، اس کے بعد فضول خرچی نہ کرنے کا عہد اور پھر اچھی خوراک کھانے، سگریٹ چھوڑنے،کیریئر میں بہتری لانے، گھروالوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے، نیا مشغلہ شروع کرنے اور گھر کی سجاوٹ وغیرہ جیسے عہد آتے ہیں۔
ماہرین یہ کہتے ہیں کہ خاصی تعداد میں لوگ چند ہفتوں بعد حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں۔ مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ ٹارگٹ حقیقی رکھیں۔ جیسے صحت مند خوراک کی عادت ڈالیں، مہینے بعد دو تین پاﺅنڈ وزن کم ہونے پر اکتفا کریں، سال بعد بارہ چودہ کلو وزن کم ہوجائے گا۔اسی طرح یہ یاد رکھا جائے کہ کہیں نہ کہیں، جلد یا بدیر آپ ٹھوکر کھائیں گے۔ کسی دعوت میں پیٹ بھر کر من پسند چیزیں اڑائیں اور پھرشرمندہ ہوکر حوصلہ ہار بیٹھے۔کامیابی کا گر لیکن اپنے اہداف سے جڑے رہنے میں ہے۔ایک بار گر کر دوبارہ اٹھ بیٹھے، پھر سے شروع کر دیا۔
ماہرین ایک ایک اہم ٹِپ یہ دیتے ہیں کہ اپنے ساتھ کوئی پارٹنر بنالیں۔ واک کرنی ہے تو میاں بیوی دونوں اکٹھا جانا شروع کریں۔جم جانے کا خیال ہے تو کسی دوست کو بھی آمادہ کرلیں۔ اس طرح ایک سستی کرے تو دوسرا اسے کھینچ لے جائے گا۔ شارٹ ٹرم ٹارگٹ رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہر 2 یا 3 مہینے کے بعد اپنی نیوایئر کمٹمنٹس کو دیکھا جائے اور جہاں بہتری ممکن ہو، لائی جائے۔ آج کل واٹس ایپ گروپ بن گئے ہیں، کتابیں پڑھنے کے شوقین دوستوں نے گروپ بنا رکھے ہیں، ایک دوسرے سے کتابیں ، ان کی سمری شیئر کرتے رہتے ہیں، درس قرآن کا سلسلہ بھی اسی طرح چل رہا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ نیو ایئر ریزولوشن کے تین چار حصے ہونے چاہییں۔ صحت پر خاص توجہ دینی چاہیے۔اپنی کھانے پینے کی عادات بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ سات آٹھ سال قبل میں نے چینی سے جان چھڑا لی۔ چائے، گرین ٹی، دودھ ، کافی سب بغیر چینی کے پینے لگا۔چند ہفتے دقت ہوئی، پھر مزا آنے لگا۔ پانچ سات سال پہلے سوچا کہ نمک کم کرنا ہے۔ فیصلہ کیا سالن،شوربہ، دال ، انڈے وغیرہ پر کبھی نمک نہیں چھڑکنا۔یہ عادت بن گئی، جس سے ہائی بلڈ پریشر میں بہتری آئی۔
پچھلے تین چار برسوں سے گندم کے آٹے کے ساتھ جو کے آٹے کا اضافہ کیا۔ یہ مشورہ ہمارے طبیب خاص اور پیارے دوست ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا تھا۔ گندم کے آٹے میں نصف جو کا آٹا ملا کر روٹی استعمال کرتا ہوں، اب تو جو کے آٹے کو دو تہائی کر دیا۔ جو کا آٹا فائبر سے بھرپور اور کولیسٹرول کم کرنے والا ، کم کیلوری صحت بخش چیز ہے۔لاہور میں تو ہر اچھے اسٹور بلکہ چکی تک سے جو کا آٹا مل جاتا ہے، جو لے کر خود بھی پسوائی جا سکتی ہے۔ناشتے یا کبھی رات کے کھانے میں بھی جو کا دلیہ استعمال کرتا ہوں۔
اگر آپ صرف گندم کے آٹے کی روٹی کی جگہ گندم، جو، باجرہ اور بیسن کو مکس کر کے ملٹی گرین روٹی استعمال کریں تو بہت اچھے اثرات پڑیں گے۔ بیسن کی روٹی شوگر کے مریض کے لیے کمال ہے کیونکہ بیسن کا گلائسمک انڈیکس سب سے کم ہے ،یعنی شوگر بہت ہی کم ہے۔ صرف دو تین چمچ بیسن سے توے پر آئل کے بغیر ہی چھوٹا پھلکا نما روٹی بن جائے گی۔ ایسی ایک یا دو روٹیاں کھا لیں۔ شوگر کو بھی فائدہ ، طبعیت بھی ہلکی۔ گیس کا خدشہ ہو تو گرین ٹی یا ادرک، سونف ، پودینے کا قہوہ بنا کر پی لیں۔ چٹکی اجوائن لے لیں، سردیوں میں تو خاص کر کوئی مسئلہ نہیں۔
نئے سال کی کمٹمنٹ لسٹ میں کیریئر کو بھی ترجیح میں رکھنا چاہیے ۔ معاشی آسودگی اس کے ساتھ جڑی ہے، جو زندگی میں آسانی پیدا کرتی اور بسا اوقات دیگر اہم اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ ہمیشہ یہ سوچیں کہ پچھلے سال کیا میں اپنی ملازمت، کاروباروغیرہ میں بہترین پرفارم کر پایا؟ نئے سال میں وہ کمی پوری کریں اور ضرورت پڑے تو بولڈ فیصلے کر گزریں۔
ریلیشن شپ زندگی میں بہت اہم ہے۔ اپنے پیاروں کے ساتھ وقت بتانا اہم ہے۔ والدین کی خدمت ، بہن بھائیوں کے ساتھ تعلق استوار کیے رکھنا، ازدواجی رشتے میں دلکش رنگ بھرنا، بچوں کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کی پلاننگ کریں۔ اپنے ایک دوست کے پاس روزانہ کے کاموں کی لسٹ دیکھی ،خوشگوار حیرت ہوئی کہ ان میں سے ایک کام کسی رشتے دار کو فون کرنا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ صرف 10 منٹ روزانہ اس کے لیے مختص کرنے سے اس کا اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ تعلق ڈرامائی طور پر بہتر ہوگیا۔ تصور کریں کہ آپ کا سینکڑوں میل دور رہنے والا دوست کسی روز بغیر کسی کام، مطلب کے فون کرے تو کتنا اچھا لگے گا۔ نئے سال کے لیے اس آئیڈیے کو اپنی لسٹ میں شامل کیا ہے۔
جسمانی صحت کے ساتھ میں ذہنی صحت اور فکری ارتقا کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ انسان کو ہر سال اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ اس نے کتنی کتابیں پڑھیں اور پچھلی سال کے مقابلے میں کس قدر پختگی آئی؟
کتابیں زندگی میں حیران کن نئے ذائقے لاتی ہیں، فکشن کا مطالعہ ہمیں شاندار تجربات سے روشناس کراتا ہے۔دنیا کی بہترین کتابیں پڑھنا، دنیا کی شاہکار فلمیں دیکھنا، سریلی ترین آوازوں کو سننا چاہیے۔ اپنی آنکھوں اور کانوں کو نئے اور منفرد ذائقوں سے روشناس کرائیں۔
کتابوں کے پڑھنے میں قرآن پاک ترجمہ سے پڑھنے اور سیرت کی کسی بھی اچھی کتاب کو ضرورپہلی ترجیح میں رکھیں۔اپنے مطالعے پر فخر کرنے والے کسی شخص نے اگر ابھی تک قرآن ترجمہ سے نہیں پڑھا تو اس پر حیرت ہوتی ہے۔ دنیا کی عظیم ترین کتاب کے بغیر آخر کس طرح اس کے مطالعے کی فہرست مکمل ہوسکتی ہے؟
تفسیر کے بجائے پہلے قرآن مجید ترجمہ سے پڑھیں، جتنی توفیق ملے ، اس پر غور کرتے رہیں۔تفاسیر کی کمی نہیں،ترجمہ سے پڑھنے کے بعد اپنے میلان کے مطابق کسی معروف تفسیر کا مطالعہ فرما لیں۔ احادیث کے بھی کئی انتخاب شائع ہوچکے ہیں جن میں مختصر شرح بھی مل جاتی ہیں۔ اسے بھی اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں۔
آخر میں اپنی پسندیدہ دو تین دعائیں کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔ اردو ترجمہ دیا ہے، آپ آسانی سے عربی دعا نیٹ پر ڈھونڈ سکتے ہیں :
اے اللہ! بے شک میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس علم سے جو نفع نہ دے،اس دل سے جو نہ ڈرے، اس نفس سے جو سیر نہ ہواور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔(مسلم)
اے اللہ! بے شک میں تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری عطا کردہ نعمتوں کے زوال سے، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے، تیری سزا کے اچانک وارد ہوجانے سے اور تیری ہر قسم کی ناراضی سے۔(مسلم)
اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں بلا کی مشقت، بدبختی کے پالینے، بری تقدیر اور دشمنوں کے خوش ہوجانے سے۔(بخاری) آمین !
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے حوالے سے نئے سال کے زندگی میں میں بہت بہت کچھ کے ساتھ اور پھر جاتا ہے کے بعد ہر سال کے آٹے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔