وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا اسلام آباد میں بڑھتا قیام پارٹی رہنماؤں کو بُرا لگنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ ہفتے لاہور کے 3 روزہ سیاسی دورے کے بعد واپسی پر اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے اور پیر کے روز اہم کابینہ اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آئے بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی سربراہی کی۔
سہیل آفریدی گزشتہ جمعے کو 3 روزہ دورے پر لاہور گئے تھے اور واپسی پر اسلام آباد آ گئے۔ ان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ سہیل آفریدی نے سفر کے بعد اسلام آباد میں آرام کو ترجیح دی اور خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں قیام کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟
ان کے مطابق یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوں، اس سے قبل بھی وہ پختونخوا ہاؤس میں قیام کرتے رہے ہیں اور اجلاسوں کی سربراہی ویڈیو لنک کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی پر اسلام آباد میں زیادہ قیام پر تنقیدپی ٹی آئی کے صوبائی قائدین کو بھی وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے پر اعتراض ہے، تاہم وہ کھل کر سامنے نہیں آ رہے۔ کچھ پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپور کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں اور پشاور کے بجائے اسلام آباد کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی 9 جنوری کو کراچی جائیں گے
ان کے مطابق علی امین اپنے دور میں زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ہوتے تھے اور جمعے کے روز اراکین کی ملاقات کے دن بھی پشاور نہیں آتے تھے۔ ‘سہیل آفریدی شروع کے دنوں میں پشاور میں ہوتے تھے، وقت دیتے تھے، لیکن اب پشاور کے بجائے اسلام آباد میں زیادہ قیام کرتے ہیں۔’
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر بھی لوگوں کو اعتراضات ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔
‘وزیراعلیٰ کو صوبے کی فکر نہیں’سماجی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی اسلام آباد میں ترجیحی قیام پر سہیل آفریدی کو تنقید کا سامنا ہے۔ پشاور کے سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے وزیراعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ ہیں یا وائسرائے جو کابینہ اجلاس کے لیے بھی پشاور نہیں آتے اور ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔
صحافی عارف نے بتایا کہ سہیل آفریدی پہلے وزیراعلیٰ نہیں ہیں جو اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور بھی ایسا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے اسلام آباد میں بھی اہم اجلاس ہوا کرتے تھے جن کے لیے کابینہ ممبران اور سرکاری حکام خصوصی طور پر اسلام آباد جاتے تھے جو خزانے پر بوجھ تھا۔
عارف کے مطابق سہیل آفریدی کچھ عرصے سے مسلسل اسلام آباد کو ترجیح دے رہے ہیں اور کئی بار اہم اجلاسوں کے لیے بھی پشاور نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومتی معمولات چلانا سرکاری امور میں عدم دلچسپی کی نشانی ہے۔
‘حکومتی معاملات افسران کے حوالے، سہیل آفریدی سیاسی معمولات میں مصروف’پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی حکومتی امور کے مقابلے میں سیاسی و پارٹی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ حکومتی امور کے لیے مناسب وقت نہیں دے پا رہے۔ ان کے مطابق پارٹی میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
‘ورکرز عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات چاہتے ہیں، وہ نظر نہیں آ رہے، جبکہ ترقیاتی کام بھی نہیں ہو رہے۔’
صحافی عارف کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ سیاسی معمولات میں مکمل طور پر مصروف ہیں۔ لاہور کا سیاسی دورہ کیا، 3 دن صوبے سے باہر رہے، جبکہ واپسی پر اسلام آباد گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے بعد اب وزیراعلیٰ کا اگلا پلان کراچی کا دورہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جیل میں قید پی ٹی آئی کارکنوں سے خصوصی ملاقات، کیا بات چیت ہوئی؟
‘وزیراعلیٰ حکومت چلانے کے بجائے اب اپنی پارٹی کی سیاسی مہم میں مصروف ہیں، جس کا نقصان صوبائی حکومت کو ہو رہا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ حکومتی امور افسران کے حوالے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ احتجاج کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ اسلام آباد کیوں جاتے ہیں؟وزیراعلیٰ کے اسلام آباد میں ترجیحی قیام اور کابینہ سمیت دیگر اہم اجلاسوں میں اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے ترجمانِ صوبائی حکومت سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی موقف نہیں دیا۔
تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعینات ایک افسر نے بتایا کہ سہیل آفریدی لاہور سے واپسی پر آرام کے لیے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد گئے تھے اور اگلی صبح وہیں سے ویڈیو لنک کے ذریعے کابینہ اجلاس کی صدارت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ علی امین کے مقابلے میں سہیل آفریدی اسلام آباد میں بہت کم قیام کرتے ہیں جبکہ علی امین زیادہ وقت اسلام آباد میں گزارتے تھے۔
اسلام آباد میں وزیراعلیٰ کی مصروفیات کے بارے میں سوال پر افسر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ وہاں اکثر اہم ملاقاتیں اور میٹنگز کرتے ہیں اور پختونخوا ہاؤس میں اپنی فیملی کے ساتھ بھی قیام کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پی ٹی آئی سہیل آفریدی لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پی ٹی ا ئی سہیل ا فریدی لاہور ویڈیو لنک کے ذریعے بھی پشاور نہیں اسلام آباد میں خیبر پختونخوا پختونخوا ہاؤس پر اسلام آباد ان کے مطابق میں زیادہ قیام کرتے علی امین انہوں نے کرتے ہیں واپسی پر رہے ہیں ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔