ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، انہوں نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے انتہائی اہم سنگ میل ہے، ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ روا مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے جی ڈی پی میں خاطرخواہ اضافہ خوش آئند ہے، ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔
وزیراعظم نے حالیہ دور کے دوران صدر یو اے ای سے ملاقات کو دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید قرار دیا، اجلاس میں وزیراعظم نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹیجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے سی سی ایل سی کے فیصلوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے کارروائی کی بھی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں اور آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس لیوی کے حوالے سے تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی توثیق کردی۔
کابینہ نے تھرڈ پارٹی کی جانب سے آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت، صدارتی حکم نامے کے اجرا کے لیے کاروائی کی منظوری دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اداروں کی نجکاری نے کہا
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔