مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حکومت نے عوامی معاہدے کے 38 نکات پر 98 فیصد عملدرآمد کرلیا، ہماری حکومت بننے کے بعد عوام کی مایوسی میں بے پناہ کمی آئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ یہ حکومت 11نومبر کو بنی تھی، سوا ماہ میں ریاست کے2ڈویژنز میں عوامی اجتماعات کیے، سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوا۔

فیصل ممتازراٹھور نے کہا کہ یہاں لوگ سڑکوں پر آئے اورمختلف تحریکوں نے جنم لیا، معاہدہ 4اکتوبر کو ہوا اورہماری حکومت 11نومبر کو بنی، ہماری حکومت بننے کے بعد عوام کی مایوسی میں بے پناہ کمی آئی ہے، حکومت 17 اکتوبر کو بنی، صرف سوا ماہ میں عوامی رابطہ بحال ہوا۔

خیبر پختونخوا : عبوری حکومت کے دوران بھرتی کیے گئے ملازمین کیلیے بری خبر ، حکومت نے اہم فیصلہ کر لیا

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیرکے دو ڈویژنز میں بھرپور عوامی اجتماعات، عوامی رجحان نے سیاسی نظام پر اعتماد بڑھایا، عوام نے اس حکومت کی اونرشپ لی، عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح تھی، تین ماہ کی مدت کے بجائے حکومت نے سوا ماہ میں بیشتر نکات پر عملدرآمد کیا۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل سے ریاست میں سیاسی چہل پہل بحال ہوئی، پچھلی حکومت کے دو ڈھائی سال میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ بڑھا تھا، موجودہ حکومت نے عوام اور قیادت کے درمیان کنیکٹیوٹی بحال کی، جن سڑکوں پر سیاست دانوں کے لیے چلنا مشکل تھا، آج عوام نے استقبال کیا۔

بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے پہاڑی علاقے سے 4 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں بڑے عوامی اجتماعات، عوام نے حکومت کا خیرمقدم کیا، حکومت نے عوامی مفاد کے فیصلوں میں تاخیر نہیں کی، پانچویں کابینہ اجلاس اور اسمبلی سیشن میں اہم عوامی فیصلے کیے گئے، حکومت کا مقصد کسی سے مقابلہ نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل ہے۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ریاست میں اعتماد کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان پیپلز پارٹی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے، افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت نے عوامی معاہدے کے 38 نکات پر 98 فیصد عملدرآمد مکمل کیا ہے۔
 

پاکستان میں 2025 میں دہشتگردی کے واقعات میں کتنااضافہ ہوااور کتنے افراد لقمۂ اجل بنے۔۔؟سیکیورٹی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حکومت نے عوامی حکومت نے عوام نے کہا کہ نکات پر

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع