حکومتی فیصلوں میں عوامی شمولیت؛ امارات میں نئی ورچوئل اتھارٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے حکمرانی کے نظام میں ایک منفرد اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے حکومتی فیصلوں میں براہ راست عوامی شمولیت کے لیے ایک نئی اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق اس نئے ادارے کا اعلان متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کیا، جسے ’’کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
شیخ محمد بن زاید کے مطابق اس نئی اتھارٹی کو مکمل طور پر اماراتی شہری خود چلائیں گے اور اس کا مقصد عوامی مشاورت کے ذریعے حکومتی فیصلوں کو مزید مؤثر اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اتھارٹی کی ذمہ داری مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد باری باری سنبھالیں گے، جن میں عام شہری، ماہرین، نوجوان، کاروباری شخصیات اور ریٹائرڈ افراد شامل ہوں گے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس اتھارٹی کے لیے شہریوں کے انتخاب کا عمل روایتی انتخابات کے ذریعے نہیں ہوگا بلکہ اہلیت، تجربے اور صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اماراتی حکام کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد ایسے افراد کو آگے لانا ہے جو عملی تجربہ اور سماجی مسائل کی بہتر سمجھ رکھتے ہوں اور حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کر سکیں۔
عوامی مشاورت پر مبنی اس نئے منصوبے سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مملکت سے متعلق فیصلے زیادہ جامع، متوازن اور عوامی توقعات کے مطابق ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو سکتی ہے اور شہری خود کو حکمرانی کے عمل کا حصہ محسوس کریں گے۔
واضح رہے کہ 7 ریاستوں پر مشتمل متحدہ عرب امارات میں بادشاہی نظام رائج ہے جہاں صدر کا عہدہ ابوظبی کے حکمران کے پاس جب کہ وزیراعظم کا منصب دبئی کے حکمران کے پاس ہوتا ہے۔ روایتی طور پر فیصلہ سازی کا اختیار انہی 2 اعلیٰ عہدوں تک محدود رہا ہے اور عوام کی براہ راست شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔
اسی پس منظر میں نئی ورچوئل اتھارٹی کا قیام ایک بڑی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد موجودہ نظام میں عوامی آواز کو شامل کرنا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل مستقبل میں امارات کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں ایک مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے اور دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔