متحدہ عرب امارات کا حکومتی فیصلوں میں براہ راست عوامی شمولیت کیلئے نیا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
متحدہ عرب امارات میں حکومتی فیصلوں میں براہ راست عوامی شمولیت کے لیے نئی اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے نئے سرکاری ادارے کمیونٹی مینیجڈ ورچوئل اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے مکمل طور پر اماراتی شہری خود چلائیں گے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس اتھارٹی کو چلانے کی ذمہ داری عام شہری، ماہرین، نوجوان، کاروباری افراد اور ریٹائرڈ لوگ باری باری نبھائیں گے۔
تاہم اس اتھارٹی کی ذمہ داری نبھانے والے شہریوں کا انتخاب کا عمل الیکشن کے بجائے اہلیت، تجربے اور صلاحیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا۔
عوامی مشاورت پر مبنی اس منصوبے سے امید کی جارہی ہے کہ مملکت سے متعلق بہتر فیصلے ہوں گے۔ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
خیال رہے کہ سات ریاستوں (امارات) پر مشتمل متحدہ عرب امارات میں بادشاہی نظام ہے جہاں سربراہِ مملکت یعنی صدر ابو ظہبی کا حکمران ہوتا ہے۔
اسی طرح وزیراعظم کا عہدہ سربراہِ ریاست دبئی کا حکمران ہوتا ہے اور فیصلہ سازی کا اختیار انھی دونوں کو ہوتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اس حکومتی ماڈل میں عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اسی کمی کو دور کرنے کے لیے نئی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔