Islam Times:
2026-07-24@01:13:13 GMT

ابوظہبی کی اسٹریٹجک شکست

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

ابوظہبی کی اسٹریٹجک شکست

اسلام ٹائمز: اب جبکہ مال غنیمت ختم ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے تو شریک جرم ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے لگے ہیں۔ یمن، سوڈان اور بحیرہ احمر، طاقت کی ہوس میں اس جنون آمیز ٹکراو کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کی برتر طاقت کا مقام حاصل کرنے کے لیے پورے خطے کو آگ لگانے میں جھونک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس سرد جنگ میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا کیونکہ دونوں طاقتوں نے اپنی قانونی حیثیت صنعاء کی منہدم دیواروں اور خرطوم کی خون آلود گلیوں کی نذر کر ڈالی ہے۔ 2026ء کے برس میں مشرق وسطیٰ ایک نئے "آرڈر" سے نہیں بلکہ انا پرستی میں مبتلا دو بھیڑیوں میں ٹکراو کے باعث پیدا ہونے والی انارکی سے روبرو ہو گا جو اپنی بقا کا واحد راستہ مدمقابل کی نابودی میں دیکھتے ہیں۔ تحریر: فاطمہ مرادی
 
دسمبر 2025ء کے آخری گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ نے حالیہ صدی کی سب سے بڑی ڈرامائی سفارتی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کیا۔ یمن سے اماراتی افواج کا مکمل انخلاء کا اعلان، وہ بھی براہ راست دباؤ اور ریاض کی طرف سے 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد، محض ایک سادہ فوجی نقل و حرکت نہیں ہے۔ یہ واقعہ "عرب اتحاد" کے نصف مردہ جسم پر لگنے والی آخری ضرب اور ایسے دو عرب ممالک کے درمیان خفیہ سرد جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے جو برسوں سے بھائی چارے کے نقاب کی آڑ میں علاقائی سلامتی کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ یمن سے متحدہ عرب امارات کا انخلاء اس ملک کے مصیبت زدہ عوام کی مصلحت کی خاطر نہیں بلکہ سعودی عرب کے تسلط پسندانہ دباؤ اور مفادات کے گہرے ٹکراؤ کے سامنے خوف پر مبنی ایک ردعمل ہے۔
 
یمن، لٹیروں کے لیے کھیل کا میدان اور ایک ٹکراو کا آغاز
اس ذلت آمیز انخلاء کی جڑیں "جھلسی ہوئی زمین" اور "باہدف تقسیم" پر مبنی حکمت عملی میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یمن میں فوجی مداخلت کے آغاز سے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کبھی بھی مشترکہ اہداف کے حامل نہیں رہے۔ ایک طرف سعودی جنگی مشین اپنی جنوبی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صنعا میں ایک کٹھ پتلی حکومت برسراقتدار لانے کی کوشش میں مصروف تھی جبکہ دوسری طرف ابوظہبی کسی اور ہی منصوبے پر عمل پیرا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے "جنوبی عبوری کونسل" نامی مسلح جتھے پر سرمایہ کاری کے ذریعے عملی طور پر یمن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی تاکہ یوں بحر ہند میں اپنی لاجسٹک سلطنت کو عدن اور المکلا کی اسٹریٹجک بندرگاہوں اور سقطری جزائر کے ساتھ ساتھ بحر ہند پر بھی مسلط کر سکے۔ المکلا بندرگاہ پر سعودی عرب کے فضائی حملے نے یہ خواب چکناچور کر دیے۔
 
لاجسٹک جنگ، جب بندرگاہوں سے خون کی بو آنے لگی
دونوں ممالک کے درمیان جیوپولیٹیکل ٹکراو کا سلسلہ صرف یمن تک محدود نہیں ہے بلکہ اب تو بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ بھی بھیڑیوں کے درمیان میدان جنگ بن چکے ہیں۔ سوڈان میں یہ ٹکراو ایک بہت ہی مکروہ انداز میں جاری ہے۔ ایسے میں جب ریاض انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں سے بین الاقوامی ساکھ خریدنے کی کوشش میں مصروف ہے، متحدہ عرب امارات کے خفیہ اثر و رسوخ اور آر ایس ایف جیسے باغی گروپوں کی حمایت نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کا حتمی مقصد سمندری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ معاشی میدان میں بھی یہ ٹکراو جنون آمیز صورت اختیار کر چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات، جس نے گذشتہ کئی دہائیوں سے جبل علی کی بندرگاہ کے ذریعے علاقائی تجارت کی نبض اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی، اب اسے سعودی عرب کی جانب سے ایک وجودی خطرے کا سامنا ہے۔
  
سفارتی میدان میں ٹکراو، شیطان سے سودا بازی
اس ٹکراو کے گھناؤنے ترین پہلووں میں سے ایک "اسرائیلی کارڈ" بروئے کار لانے پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے جاسوسی ٹیکنالوجیز اور جدید ہتھیار حاصل کرنے کی لالچ میں "ابراہیم معاہدہ" کے ذریعے علاقائی امنگوں کی نیلامی شروع کر رکھی ہے۔ ابوظہبی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں پہل کر کے خود کو خطے میں مغرب کے واحد اتحادی کے طور پر متعارف کرواے کے درپے تھا لیکن سعودی عرب نے موقع پرستانہ رویہ اختیار کر کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا تاکہ صحیح وقت پر واشنگٹن سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ مراعات حاصل کر سکے۔ اس اختلاف نے دونوں ممالک کو اسلحے اور سلامتی کی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جس میں ہر ایک اسرائیل سے قریب ہونا چاہتا ہے۔ شیطان کے ساتھ یہ سودا بازی امن کے لیے نہیں بلکہ اپنے ہی خطے میں مدمقابل پر دباو ڈالنے کے لیے ہے۔
 
کھنڈرات پر تسلط؛ اقتدار کی جنگ
آخرکار آج ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ "خلیج تعاون کونسل" یا جی سی سی نامی افسانے کا خاتمہ ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب، مزید متحدہ عرب امارات کے غیر متناسب اثر و رسوخ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریاض کی نظر میں متحدہ عرب امارات ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی بھوک بہت زیادہ ہے اور اسے پیروکار کے طور پر اپنی روایتی پوزیشن پر واپس آ جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، ابوظہبی اپنے مالی اور سیکورٹی اثر و رسوخ پر مبنی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یمن سے انخلاء ایک ایسے جارح اتحاد کی ذلت آمیز شکست کی علامت ہے جو ابتدا سے ہی جھوٹ اور لوٹ مار پر بنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد بھی اب تک انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہو پائی۔
 
اب جبکہ مال غنیمت ختم ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے تو شریک جرم ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے لگے ہیں۔ یمن، سوڈان اور بحیرہ احمر، طاقت کی ہوس میں اس جنون آمیز ٹکراو کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کی برتر طاقت کا مقام حاصل کرنے کے لیے پورے خطے کو آگ لگانے میں جھونک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس سرد جنگ میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا کیونکہ دونوں طاقتوں نے اپنی قانونی حیثیت صنعاء کی منہدم دیواروں اور خرطوم کی خون آلود گلیوں کی نذر کر ڈالی ہے۔ 2026ء کے برس میں مشرق وسطیٰ ایک نئے "آرڈر" سے نہیں بلکہ انا پرستی میں مبتلا دو بھیڑیوں میں ٹکراو کے باعث پیدا ہونے والی انارکی سے روبرو ہو گا جو اپنی بقا کا واحد راستہ مدمقابل کی نابودی میں دیکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات دونوں ممالک نہیں بلکہ نہیں ہو رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف