اسلام ٹائمز: اب جبکہ مال غنیمت ختم ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے تو شریک جرم ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے لگے ہیں۔ یمن، سوڈان اور بحیرہ احمر، طاقت کی ہوس میں اس جنون آمیز ٹکراو کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کی برتر طاقت کا مقام حاصل کرنے کے لیے پورے خطے کو آگ لگانے میں جھونک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس سرد جنگ میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا کیونکہ دونوں طاقتوں نے اپنی قانونی حیثیت صنعاء کی منہدم دیواروں اور خرطوم کی خون آلود گلیوں کی نذر کر ڈالی ہے۔ 2026ء کے برس میں مشرق وسطیٰ ایک نئے "آرڈر" سے نہیں بلکہ انا پرستی میں مبتلا دو بھیڑیوں میں ٹکراو کے باعث پیدا ہونے والی انارکی سے روبرو ہو گا جو اپنی بقا کا واحد راستہ مدمقابل کی نابودی میں دیکھتے ہیں۔ تحریر: فاطمہ مرادی
دسمبر 2025ء کے آخری گھنٹوں میں مشرق وسطیٰ نے حالیہ صدی کی سب سے بڑی ڈرامائی سفارتی ٹوٹ پھوٹ کا منظر پیش کیا۔ یمن سے اماراتی افواج کا مکمل انخلاء کا اعلان، وہ بھی براہ راست دباؤ اور ریاض کی طرف سے 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد، محض ایک سادہ فوجی نقل و حرکت نہیں ہے۔ یہ واقعہ "عرب اتحاد" کے نصف مردہ جسم پر لگنے والی آخری ضرب اور ایسے دو عرب ممالک کے درمیان خفیہ سرد جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے جو برسوں سے بھائی چارے کے نقاب کی آڑ میں علاقائی سلامتی کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ یمن سے متحدہ عرب امارات کا انخلاء اس ملک کے مصیبت زدہ عوام کی مصلحت کی خاطر نہیں بلکہ سعودی عرب کے تسلط پسندانہ دباؤ اور مفادات کے گہرے ٹکراؤ کے سامنے خوف پر مبنی ایک ردعمل ہے۔
یمن، لٹیروں کے لیے کھیل کا میدان اور ایک ٹکراو کا آغاز
اس ذلت آمیز انخلاء کی جڑیں "جھلسی ہوئی زمین" اور "باہدف تقسیم" پر مبنی حکمت عملی میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یمن میں فوجی مداخلت کے آغاز سے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کبھی بھی مشترکہ اہداف کے حامل نہیں رہے۔ ایک طرف سعودی جنگی مشین اپنی جنوبی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صنعا میں ایک کٹھ پتلی حکومت برسراقتدار لانے کی کوشش میں مصروف تھی جبکہ دوسری طرف ابوظہبی کسی اور ہی منصوبے پر عمل پیرا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے "جنوبی عبوری کونسل" نامی مسلح جتھے پر سرمایہ کاری کے ذریعے عملی طور پر یمن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کی تاکہ یوں بحر ہند میں اپنی لاجسٹک سلطنت کو عدن اور المکلا کی اسٹریٹجک بندرگاہوں اور سقطری جزائر کے ساتھ ساتھ بحر ہند پر بھی مسلط کر سکے۔ المکلا بندرگاہ پر سعودی عرب کے فضائی حملے نے یہ خواب چکناچور کر دیے۔
لاجسٹک جنگ، جب بندرگاہوں سے خون کی بو آنے لگی
دونوں ممالک کے درمیان جیوپولیٹیکل ٹکراو کا سلسلہ صرف یمن تک محدود نہیں ہے بلکہ اب تو بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ بھی بھیڑیوں کے درمیان میدان جنگ بن چکے ہیں۔ سوڈان میں یہ ٹکراو ایک بہت ہی مکروہ انداز میں جاری ہے۔ ایسے میں جب ریاض انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں سے بین الاقوامی ساکھ خریدنے کی کوشش میں مصروف ہے، متحدہ عرب امارات کے خفیہ اثر و رسوخ اور آر ایس ایف جیسے باغی گروپوں کی حمایت نے خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کا حتمی مقصد سمندری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ معاشی میدان میں بھی یہ ٹکراو جنون آمیز صورت اختیار کر چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات، جس نے گذشتہ کئی دہائیوں سے جبل علی کی بندرگاہ کے ذریعے علاقائی تجارت کی نبض اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی، اب اسے سعودی عرب کی جانب سے ایک وجودی خطرے کا سامنا ہے۔
سفارتی میدان میں ٹکراو، شیطان سے سودا بازی
اس ٹکراو کے گھناؤنے ترین پہلووں میں سے ایک "اسرائیلی کارڈ" بروئے کار لانے پر مشتمل ہے۔ متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے جاسوسی ٹیکنالوجیز اور جدید ہتھیار حاصل کرنے کی لالچ میں "ابراہیم معاہدہ" کے ذریعے علاقائی امنگوں کی نیلامی شروع کر رکھی ہے۔ ابوظہبی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں پہل کر کے خود کو خطے میں مغرب کے واحد اتحادی کے طور پر متعارف کرواے کے درپے تھا لیکن سعودی عرب نے موقع پرستانہ رویہ اختیار کر کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں تاخیر کا مظاہرہ کیا تاکہ صحیح وقت پر واشنگٹن سے زیادہ سے زیادہ ممکنہ مراعات حاصل کر سکے۔ اس اختلاف نے دونوں ممالک کو اسلحے اور سلامتی کی دوڑ میں دھکیل دیا ہے جس میں ہر ایک اسرائیل سے قریب ہونا چاہتا ہے۔ شیطان کے ساتھ یہ سودا بازی امن کے لیے نہیں بلکہ اپنے ہی خطے میں مدمقابل پر دباو ڈالنے کے لیے ہے۔
کھنڈرات پر تسلط؛ اقتدار کی جنگ
آخرکار آج ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ "خلیج تعاون کونسل" یا جی سی سی نامی افسانے کا خاتمہ ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب، مزید متحدہ عرب امارات کے غیر متناسب اثر و رسوخ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریاض کی نظر میں متحدہ عرب امارات ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی بھوک بہت زیادہ ہے اور اسے پیروکار کے طور پر اپنی روایتی پوزیشن پر واپس آ جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، ابوظہبی اپنے مالی اور سیکورٹی اثر و رسوخ پر مبنی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یمن سے انخلاء ایک ایسے جارح اتحاد کی ذلت آمیز شکست کی علامت ہے جو ابتدا سے ہی جھوٹ اور لوٹ مار پر بنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد بھی اب تک انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہو پائی۔
اب جبکہ مال غنیمت ختم ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے تو شریک جرم ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے لگے ہیں۔ یمن، سوڈان اور بحیرہ احمر، طاقت کی ہوس میں اس جنون آمیز ٹکراو کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کی برتر طاقت کا مقام حاصل کرنے کے لیے پورے خطے کو آگ لگانے میں جھونک دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس سرد جنگ میں کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا کیونکہ دونوں طاقتوں نے اپنی قانونی حیثیت صنعاء کی منہدم دیواروں اور خرطوم کی خون آلود گلیوں کی نذر کر ڈالی ہے۔ 2026ء کے برس میں مشرق وسطیٰ ایک نئے "آرڈر" سے نہیں بلکہ انا پرستی میں مبتلا دو بھیڑیوں میں ٹکراو کے باعث پیدا ہونے والی انارکی سے روبرو ہو گا جو اپنی بقا کا واحد راستہ مدمقابل کی نابودی میں دیکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات دونوں ممالک نہیں بلکہ نہیں ہو رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔