متحدہ عرب امارات نے انرجی ڈرنکس پر مزید نیا ٹیکس نافذ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں صحت عامہ کے مفاد میں آج سے نیا ٹیکس نافذ کر دیا گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ میں العربیہ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے انرجی ڈرنکس اور تمام گیس دار مشروبات کے خلاف قوانین مزید سخت کرتے ہوئے انتخابی ٹیکس عائد کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے آج سے میٹھے مشروبات پر انتخابی ٹیکس کے حساب کے نئے طریقہ کار کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ طریقہ کار حجم تدریجی ماڈل پر مبنی ہے جس کے تحت ہر لیٹر میٹھے مشروب پر عائد ٹیکس کو ہر 100 ملی لیٹر میں چینی اور دیگر مٹھاس کی مجموعی مقدار سے جوڑا جائے گا۔
وفاقی ٹیکس اتھارٹی نے وضاحت کی کہ نئے قواعد کے تحت میٹھے مشروبات کو چار درجوں میں تقسیم کر کے ان پر انتخابی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
1۔ زیادہ چینی والے میٹھے مشروبات جن میں ہر 100 ملی لیٹر میں 8 گرام یا اس سے زیادہ چینی اور دیگر مٹھاس شامل ہو، ان پر فی لیٹر 1.
2۔ درمیانی مقدار کی چینی والے میٹھے مشروبات جن میں ہر 100 ملی لیٹر میں 5 گرام یا اس سے زیادہ مگر 8 گرام سے کم چینی اور دیگر مٹھاس ہو، ان پر فی لیٹر 0.79 درہم ٹیکس عائد ہوگا۔
3۔ کم چینی والے میٹھے مشروبات جن میں ہر 100 ملی لیٹر میں 5 گرام سے کم چینی اور دیگر مٹھاس ہو، ان پر فی لیٹر صفر درہم ٹیکس ہوگا۔
4۔ صنعتی طور پر میٹھے بنائے گئے مشروبات جن میں صرف مصنوعی مٹھاس شامل
ہو یا جن میں چینی اور دیگر مٹھاس کی مقدار ہر 100 ملی لیٹر میں 5 گرام سے کم ہو، ان پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ انتخابی ٹیکس انرجی ڈرنکس، گیس دار مشروبات، میٹھے مشروبات، الیکٹرانک سگریٹ اور اس سے متعلق آلات اور ان میں استعمال ہونے والی مائعات، تمباکو اور دیگر مصنوعات پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔ یہ ٹیکس صحت عامہ یا ماحول پر منفی اثر ڈالنے والی اشیا پر لگایا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہر 100 ملی لیٹر میں متحدہ عرب امارات مشروبات جن میں میٹھے مشروبات انتخابی ٹیکس
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔