اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم تنظیمی قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی قیادت نے تینوں اضلاع اور حلقوں کے لیے پارلیمانی اور اپیلیٹ بورڈز تشکیل دے دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ٹکٹوں اور امیدواروں کے انتخاب میں شفافیت، کارکنان کی مؤثر نمائندگی اور پارٹی آئین کے مطابق فیصلوں کو یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات تیسری مرتبہ ملتوی، نمائندے کیا کہتے ہیں؟

وی نیوز کے مطابق مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تینوں ڈسٹرکٹ حلقوں کے لیے ایپیلیٹ بورڈ قائم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تینوں اضلاع اور حلقوں پر مشتمل علیحدہ علیحدہ پارلیمانی بورڈز کے قیام کے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ریجنل صدر عامر مغل اور ریجنل جنرل سیکرٹری ملک عامر علی اعوان کی مشاورت سے مرکزی جنرل سیکرٹری نے اسلام آباد کے تینوں اضلاع کے لیے مجموعی طور پر چار پارلیمانی بورڈز تشکیل دیے ہیں۔ ان بورڈز میں ڈسٹرکٹ این اے 46 کے لیے 15 رکنی جبکہ این اے 47 اور این اے 48 کے لیے 16، 16 رکنی پارلیمانی بورڈز قائم کیے گئے ہیں۔

ضلعی بورڈز کے فیصلوں کے خلاف امیدواروں کو ریویو کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ریجنل سطح پر ایک ریجنل ایپیلیٹ بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ اس ریجنل ایپیلیٹ بورڈ کے چیئرمین عامر مغل ہوں گے، جبکہ شعیب شاہین اور سید علی بخاری ان کے ساتھ شریک چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

عامر مغل تینوں اضلاع اور حلقوں کے پارلیمانی بورڈز کے چیئرمین ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ این اے 46 میں فرزند شاہ، این اے 47 میں شعیب شاہین اور این اے 48 میں سید علی بخاری کو ان کے ساتھ شریک چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ریجنل جنرل سیکرٹری اور چیئرمین بلدیات کمیٹی ملک عامر علی اعوان تینوں اضلاع کے بورڈز کے سیکرٹری ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پھر کھٹائی میں پڑگئے، التوا کا نوٹیفکیشن جاری

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بورڈز کی بنیادی ذمہ داری اپنے اپنے اضلاع میں ایسے کارکنان کا انتخاب کرنا ہے جو عمران خان کی قیادت میں جاری تحریک کے فعال رکن ہوں، عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں اور حقیقی آزادی کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس موقع پر عامر مغل، شعیب شاہین، سید علی بخاری اور ملک عامر علی اعوان نے سلمان اکرم راجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور پارٹی آئین کے مطابق حقیقی کارکنان پر مشتمل بورڈز کا قیام خوش آئند اقدام ہے۔ یہ پیش رفت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تنظیمی سطح پر ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ شعیب شاہین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد بلدیاتی انتخابات پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی سلمان اکرم راجہ شعیب شاہین میں بلدیاتی انتخابات پارلیمانی بورڈز تینوں اضلاع اسلام آباد شعیب شاہین بورڈز کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن