اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ بغیر قانونی پراسس پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اغوا قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ بغیر قانونی پراسس پولیس کے ہاتھوں گرفتاری اغوا قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کے اختیارات سے تجاوز کے اقدامات پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر پراسس کا غلط استعمال ہو اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے تو طے شدہ اصول کے مطابق ایسی کارروائی کالعدم ہو جاتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام کارروائی ختم ہونی چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے مطابق کرمنل کارروائی کو کالعدم قرار دینے کا اسکوپ محدود ہے اور عدالت کو یہ اختیار غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہیے۔
عدالت نے یہ حکم لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے میں جاری کیا۔ یہ کیس سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین کے تنازع سے متعلق تھا۔ عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ اہم فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریر کیا ہے۔
عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔ فیصلے میں ڈی آئی جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کیے جا چکے ہیں۔
تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے جب کہ ایسے اہلکاروں پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار جرمانے کی یہ رقم بطور تلافی مدعی ثنا سہیل کو ادا کریں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو حکم دیا کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائیں۔ عدالت نے لاہور پولیس کو بھی ہدایت کی کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کے خلاف میرٹ پر تحقیقات کی جائیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کرکے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلدیاتی انتخابات پھر ملتوی؟ وفاقی حکومت کا اسلام آباد میں نیا پلان تیار بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی؟ وفاقی حکومت کا اسلام آباد میں نیا پلان تیار پاکستان اور چین کے درمیان 15397 فٹ کی بلندی پر خنجراب ٹاپ کلیئر کر دیا گیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلندیوں پر؛ آج پھر نیا ریکارڈ قائم جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے امریکا میں ٹریفک حادثہ، سابق سربراہ پاک فضائیہ نور خان کی بیٹی جاں بحق پنجاب، پختونخوا اور سندھ کے مختلف حصوں میں شدید دھند، گاڑیاں چلانا انتہائی خطرناک ہوگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ اغوا قرار پولیس کے عدالت نے کے خلاف حکم دیا
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے