عدالت نے اردو یونیورسٹی ملازمین کی پنشن کی عدم ادائیگی کیخلاف درخواست نمٹا دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازم کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عدالت نے ریٹائرڈ ملازم محمد اسماعیل کے پینشن واجبات 60 روز میں ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وکیل اردو یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ مالی معاونت کے لئے وفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کا جمع کروایا گیا جواب غیر تسلی بخش ہے۔ درخواست گزار کے واجبات تسلیم شدہ ہیں۔
عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی نے تسلیم کیا کہ ریٹائرمنٹ کی مد میں 53 لاکھ سے زائد رقم واجب الادا ہے۔ ریٹائرڈ ملازم کے واجبات ساٹھ روز میں ادا کئے جائیں۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نا ہونے پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔