اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانونی پراسس کے بغیر گرفتاری کو اغوا قرار دیدیا، کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی بغیر قانونی پراسس گرفتاری کو اغوا قرار دے دیا اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کمسن بچوں کے اغوا کے معاملے عدالت نے حکم جاری کیا، عدالت نے محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کیخلاف پولیس کا مقدمہ خارج کر دیا۔
پی آئی اے کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول کا شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے ساتھ لین دین تنازع ہوا، جسٹس محسن اختر کیانی نے محمد وقاص، علیم سہیل اور اہلیہ ثنا سہیل کے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
ایئر مارشل نور خان کی صاحبزادی ڈاکٹر فائقہ قریشی امریکا میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق
عدالت نے قرار دیا کہ ڈی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق شوکاز نوٹس ملوث پولیس اہلکاروں کو جاری کئے جا چکے ، پراسس کا غلط استعمال اور انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہو تو طے شدہ اصول ہے کہ کارروائی کالعدم ہو گی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ سپریم کورٹ طے کر چکی اگر ایف آئی آر کی بنیاد غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ساری کارروائی ختم ہونی چاہئے، سپریم کورٹ نے یہ بھی طے کیا کہ کریمنل کارروائی کالعدم قرار دینے کا سکوپ محدود ہے عدالت کو غیر معمولی حالات میں استعمال کرنا چاہئے۔
تحریری فیصلہ میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیا، مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مرتکب اہلکاروں کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کا بھی حکم دیا گیا۔
ویڈیو: پشاور کا پٹھان چھا گیا، چابی والے اخروٹ، آم اور امرود کے ڈرائی فروٹس، آپ نے اپنی زندگی میں یہ ڈرائی فروٹس دیکھے بھی نہیں ہوں گے
فیصلہ کے مطابق اسلام آباد پولیس اہلکار جرمانے کی رقم بطور تلافی مدعی ثناء سہیل کو ادا کریں گے، خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، کیش اور جیولری واپس کی جائے۔
عدالت نے لاہور پولیس کو حکم دیا کہ وہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے کیس میں ملزمان کیخلاف میرٹ پر تحقیقات کرے، آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر عملدرآمد کرکے 30 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
یاد رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کارروائی کا اسلام ا باد اسلام آباد عدالت نے کا حکم
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔