Daily Sub News:
2026-07-24@01:43:23 GMT

تحریک تحفظ آئین پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

تحریک تحفظ آئین پاکستان

تحریک تحفظ آئین پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز


تحریر : جاوید انتظار


آئین پاکستان ایک مقدس دستاویز ہے ۔ جس کے پہلے صفحے میں درج ہے مملکت خدا داد پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ذات ہے ۔ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کے قوانین سے روشنی لے کر آئین پاکستان بنایا جائے گا ۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان باہمی مفادات اور حقوق کا عمرانی معاہدہ ہے ۔ جس پر عملداری کرتے ہوئے ریاست اور عوام کے بنیادی جمہوری اور ائینی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا ۔ آئین پاکستان میں وقت ، حالات ، اجتماعی مسائل اور آبادی کے مد نظر حسب ضرورت ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ تاکہ ریاست اور فرد کے رشتے اور باہمی حقوق کے تحفظ میں توازن پیدا کیا جا سکے ۔

لیکن افسوس صد افسوس مملکت خدا داد میں آئین کی پاسداری پر طاقت اور اقتدار کی ہوس حاوی اگئی۔ جس میں عسکری اور سیاسی قیادت اپنے اپنے مفادات اور حصول اقتدار میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ جس میں ضمنی کردار جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ اور افسر شاہی کا رہا۔ عوام کی سوچ کو محدود کرنے میں کسی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پاکستانی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے ۔ اقتدار کے حصول کے لئے دنیا کو خوش کیا جاتا رہا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی غلامی سے بھی دریخ نہیں کیا گیا۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو بوقت ضرورت منتقلی اقتدار کے لئے پھانسی ، قتل اور دہشت گردی کے ذریعے ہوا میں اڑا دیا گیا ۔ 1973 کے آئین کا بار بار اپنے اپنے اختیارات اور اقتدار کے حصول کی خاطر حلیہ بگاڑنے کا عمل دہرایا گیا ۔عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کو سلب کیا گیا ۔ پاکستان کے قیام سے آج تک آئین شکنی کی بڑی بڑی وارداتیں ڈالی گئیں ۔ جمعوریت کو متعدد بار بے آبرو کیا گیا ۔ تفصیلات سے پوری قوم بخوبی آگاہ ہے۔ 2018 اور 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات ماضی کی نسبت آئین شکنی کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ جس میں رائے عامہ کا قتل عام کیا گیا ۔

جہاں رائے عامہ قتل کردی جائے وہاں کے سیاسی افق پر اندھیرے چھا جاتے ہیں ۔ لیکن ان اندھیروں میں امید کی کرن موجود ضرور ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے علاؤہ کبھی کسی کو مستقل اقتدار نہیں دیتا ۔ لوگ آتے ہیں اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ پھر چلے جاتے ہیں۔ سال 2000 میں ایک آمر جنرل( ر) پرویز مشرف نے وردی میں ملبوس صدارتی ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا ۔جو بیک وقت عسکری اور پارلیمانی آئین کے یکسر خلاف ورزی تھی ۔ ایک فوج کا جنرل وردی میں سول عہدے میں نہیں بیٹھ سکتا ۔ جو فوج کے آئین اور ملک کے آئین کو پامال کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال کا ناقابل تلافی قومی جرم تھا۔ جس میں بیک وقت ایک آمر نے فوج اور ملک کا آئین توڑ کر صدارتی ریفرنڈم کروایا ۔ اس صدارتی ریفرنڈم کا ایندھن طاہر القادری اور عمران خان ( سابق وزیر اعظم) بنے۔ دونوں نے ملکر صدارتی ریفرنڈم کے حق میں جلسوں سے رائے عامہ ہموار کی۔ عمران خان نے صدارتی ریفرنڈم میں اسلام اباد ماڈل کالج فار بوائز جی۔ سکس تھری میں جنرل( ر ) مشرف کو ووٹ بھی دیا۔ جنرل ( ر) مشرف مرحوم نے اس وقت ایک منتخب وزیر اعظم کا تخت اقتدار سے بے وقت کر کے اتارا۔ وہ تھا آئین کے لئے کھڑے ہونے کا صحیح وقت۔ جس میں سپریم کورٹ کا مشہور زمانہ ظفر علی شاہ کیس آئین کی پاسداری کی مثال تھا ۔

جس میں آمر حکمران کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کی گئی ۔ اسکے بعد ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ کا دم چھلہ بننے کا کردار اگست 2014 میں ادا کیا ۔ عمران خان نے حصول اقتدار کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا ۔۔تحریکچانصاف کو سیاسی جماعتوں کا لنڈا بازار بنایا۔126 دن کا دھرنا دلوایا گیا ۔جس 16 دسمبر سانحہ اے پی ایس پشاور پر ختم کروا دیاگیا۔ ایک مرتبہ پھر ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کو عدالتی فیصلے سے ایسے نکالا گیا ۔ایسے تو کسی چپڑاسی کو بھی نوکری سے نہیں نکالا جاتا۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا ۔ آئین کے ساتھ بھونڈے کھلواڑ میں معصوم عوام کو لچھے دار نعروں سے بیوقوف بنایا جاتا رہا ۔میں کچھ بھی نہ لکھوں تب بھی حقیقت اپنی جگہ موجود تھی، ہے اور رہے گی۔
8 فروری 2024 کو ایک دفعہ پھر ملک پر آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فارم 47 کی حکومت مسلط کر دی گئی ۔ جسے عوام نے تو منتخب کیا ہی نہیں ۔ اس جعلی عوامی حکومت نے آئین میں 27 ویں ترمیم کی۔ جس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو قبر میں دفن کر دیا گیا ۔ ایک عہدے اور اعزاز پر فائض اشخاص کو تاحیات استثنیٰ دے دیا گیا۔

جس پر مرد حر ،ایک زرداری سب پر بھاری اور قومی بیماری نے دستخط کر کے مہر ثبت کردی۔ اللہ کے نظام میں کوئی شخص 20 سال 24 گھنٹے مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا رہے۔ اسے بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ اسے بھی اپنے اعمال کا اللہ کی عدالت میں جواب دینا ہے۔ جو شخص عہدے اور اعزاز کو حاصل استثنیٰ پر دستخط کرنے میں دیر نہ لگائے وہ کیسے سیاسی اور جمعوری لیڈر ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ ایک سرکاری ملازم جسے عوام کے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں سے تنخواہ اور مراعات حاصل ہوں ۔ اسے اللہ اور ملک کا کونسا آئین استثنیٰ دیتا ہے ۔ یہ سوال بھی میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ جب ان دو سوالوں کا جواب مل جائے تو بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔


آج عوام جس کے ساتھ ہے ۔ اسکی جماعت پر پابندی لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جس کو عوام نہیں تسلیم کرتی وہ جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں ۔ ایسے کچھ سیاسی مستریوں نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کےلئے تحریک تحفظ آئین پاکستان بنائی ۔ آئین بحالی تب تک ممکن نہیں جبتک سیاسی جماعتوں کے اندر آئین بحال نہیں ہوتا ۔ سیاسی مستری تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آڑ میں سیاسی عزائم رکھتے ہیں ۔ جسکا مقصد عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں ۔ وہ سچے اور کھرے ہوتے تو سیاسی جماعتوں کے اندر جمعوریت اور احتساب کی بات کرتے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے آئین پر چلنے کا درس دیتے ۔ یہ کہا جائے کہ اس کرپٹ سیاسی نظام میں سارے ننگے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ کیا سیاسی کیا عسکری کیا نوکر شاہی ، کیا میڈیا ، کیا عدالتیں سب کے سب آئین کی پامالی کے ذمہ دار ہیں۔ جب تک عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لئے عوام سے رجوع نہیں کیا جاتا ؟ رائے عامہ کو منظم نہیں کیا جاتا؟ کرشمہ ساز قوت کا غلبہ حاوی رہے گا۔ عوام کے راج کے بغیر آئین کا راج ممکن نہیں ۔ اس کے لئے مصلحت سے بالاتر ہو کر نکلنا پڑے گا۔ اپنی ذات کو درست کرنا ہوگا ۔ ذات کی درستگی میں آئین کی بحالی کا راز پوشیدہ ہے ۔ بقول شاعر
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
ظلم کے خاتمے کا اسلامی فارمولا یہی ہے کہ سب سے پہلے ظلم کو ہاتھ سے روکو۔ ہاتھ سے روکنے کی سکت نہیں تو زبان سے روکو۔ زبان سے روکنے کی سکت نہیں تو دل میں برا جانو۔ دل میں برا جاننے کی سوچ پیدا ہو چکی ہے۔ جب اس عوامی سوچ کا آتش فشاں پھٹ گیا ۔ تو اسکا لاوا ظالموں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا ۔ یہی وہ ظلم کو دل میں برا جاننے کی سوچ بہت کچھ بدل دے گی۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جب سوچ بدل جائے سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد بھی ایک سوچ تھی۔ تکمیل پاکستان کی بنیاد بھی ظلم کو برا جاننے کی سوچ ثابت ہوگی ۔ اللہ کا دستور بھی یہی ہے۔ اس کرپٹ سیاسی نظام کو ملکر چیلنج کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں روڑے اٹکانے والے کیسے جمعوریت دوست ہو سکتے ہیں۔ اس بار الیکشن کمیشن کے شیڈول جاری ہونے کے بعد وارڈ کونسلرز کی فیسیں جمع ہونے کے بعد بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے گئے۔عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق سلب کئے گئے ۔ تو بات رکے گی نہیں دور تک جائے گی۔جعلی حکومت اور عوام کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید و دیگر کو عمر قید کی سزا جب ایمان کو یرغمال بنا لیا جائے دنیا بھارت میں بڑھتی نفرت اور تشدد کو نظرانداز کیوں نہیں کر سکتی ریل گاڑی کی ہر کھڑکی سے ایک نئی دنیا کا نظارہ، ٹرین کا آرام دہ سفر 2025ء میں کتنا کٹھن رہا، آمدن کیا رہی؟ ازبکستان کی فعال دیپلماتکن: 2025 — متحرک مکالمے سے ٹھوس نتائج تک علامہ شاہ احمد نورانی اخبارات کے آِئینے میں ایک عہد۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان صدارتی ریفرنڈم عوام کے بنیادی سیاسی جماعتوں اقتدار کے جائے گا آئین کے آئین کی کیا گیا کے لئے کی سوچ

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن