Daily Sub News:
2026-06-02@23:54:21 GMT

تحریک تحفظ آئین پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

تحریک تحفظ آئین پاکستان

تحریک تحفظ آئین پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز


تحریر : جاوید انتظار


آئین پاکستان ایک مقدس دستاویز ہے ۔ جس کے پہلے صفحے میں درج ہے مملکت خدا داد پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ذات ہے ۔ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ کے قوانین سے روشنی لے کر آئین پاکستان بنایا جائے گا ۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان باہمی مفادات اور حقوق کا عمرانی معاہدہ ہے ۔ جس پر عملداری کرتے ہوئے ریاست اور عوام کے بنیادی جمہوری اور ائینی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا ۔ آئین پاکستان میں وقت ، حالات ، اجتماعی مسائل اور آبادی کے مد نظر حسب ضرورت ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ تاکہ ریاست اور فرد کے رشتے اور باہمی حقوق کے تحفظ میں توازن پیدا کیا جا سکے ۔

لیکن افسوس صد افسوس مملکت خدا داد میں آئین کی پاسداری پر طاقت اور اقتدار کی ہوس حاوی اگئی۔ جس میں عسکری اور سیاسی قیادت اپنے اپنے مفادات اور حصول اقتدار میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ جس میں ضمنی کردار جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ اور افسر شاہی کا رہا۔ عوام کی سوچ کو محدود کرنے میں کسی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پاکستانی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے ۔ اقتدار کے حصول کے لئے دنیا کو خوش کیا جاتا رہا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی غلامی سے بھی دریخ نہیں کیا گیا۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو بوقت ضرورت منتقلی اقتدار کے لئے پھانسی ، قتل اور دہشت گردی کے ذریعے ہوا میں اڑا دیا گیا ۔ 1973 کے آئین کا بار بار اپنے اپنے اختیارات اور اقتدار کے حصول کی خاطر حلیہ بگاڑنے کا عمل دہرایا گیا ۔عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کو سلب کیا گیا ۔ پاکستان کے قیام سے آج تک آئین شکنی کی بڑی بڑی وارداتیں ڈالی گئیں ۔ جمعوریت کو متعدد بار بے آبرو کیا گیا ۔ تفصیلات سے پوری قوم بخوبی آگاہ ہے۔ 2018 اور 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات ماضی کی نسبت آئین شکنی کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ جس میں رائے عامہ کا قتل عام کیا گیا ۔

جہاں رائے عامہ قتل کردی جائے وہاں کے سیاسی افق پر اندھیرے چھا جاتے ہیں ۔ لیکن ان اندھیروں میں امید کی کرن موجود ضرور ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے علاؤہ کبھی کسی کو مستقل اقتدار نہیں دیتا ۔ لوگ آتے ہیں اقتدار کی غلام گردشوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ پھر چلے جاتے ہیں۔ سال 2000 میں ایک آمر جنرل( ر) پرویز مشرف نے وردی میں ملبوس صدارتی ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا ۔جو بیک وقت عسکری اور پارلیمانی آئین کے یکسر خلاف ورزی تھی ۔ ایک فوج کا جنرل وردی میں سول عہدے میں نہیں بیٹھ سکتا ۔ جو فوج کے آئین اور ملک کے آئین کو پامال کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال کا ناقابل تلافی قومی جرم تھا۔ جس میں بیک وقت ایک آمر نے فوج اور ملک کا آئین توڑ کر صدارتی ریفرنڈم کروایا ۔ اس صدارتی ریفرنڈم کا ایندھن طاہر القادری اور عمران خان ( سابق وزیر اعظم) بنے۔ دونوں نے ملکر صدارتی ریفرنڈم کے حق میں جلسوں سے رائے عامہ ہموار کی۔ عمران خان نے صدارتی ریفرنڈم میں اسلام اباد ماڈل کالج فار بوائز جی۔ سکس تھری میں جنرل( ر ) مشرف کو ووٹ بھی دیا۔ جنرل ( ر) مشرف مرحوم نے اس وقت ایک منتخب وزیر اعظم کا تخت اقتدار سے بے وقت کر کے اتارا۔ وہ تھا آئین کے لئے کھڑے ہونے کا صحیح وقت۔ جس میں سپریم کورٹ کا مشہور زمانہ ظفر علی شاہ کیس آئین کی پاسداری کی مثال تھا ۔

جس میں آمر حکمران کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کی گئی ۔ اسکے بعد ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ کا دم چھلہ بننے کا کردار اگست 2014 میں ادا کیا ۔ عمران خان نے حصول اقتدار کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا ۔۔تحریکچانصاف کو سیاسی جماعتوں کا لنڈا بازار بنایا۔126 دن کا دھرنا دلوایا گیا ۔جس 16 دسمبر سانحہ اے پی ایس پشاور پر ختم کروا دیاگیا۔ ایک مرتبہ پھر ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کو عدالتی فیصلے سے ایسے نکالا گیا ۔ایسے تو کسی چپڑاسی کو بھی نوکری سے نہیں نکالا جاتا۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا ۔ آئین کے ساتھ بھونڈے کھلواڑ میں معصوم عوام کو لچھے دار نعروں سے بیوقوف بنایا جاتا رہا ۔میں کچھ بھی نہ لکھوں تب بھی حقیقت اپنی جگہ موجود تھی، ہے اور رہے گی۔
8 فروری 2024 کو ایک دفعہ پھر ملک پر آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فارم 47 کی حکومت مسلط کر دی گئی ۔ جسے عوام نے تو منتخب کیا ہی نہیں ۔ اس جعلی عوامی حکومت نے آئین میں 27 ویں ترمیم کی۔ جس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو قبر میں دفن کر دیا گیا ۔ ایک عہدے اور اعزاز پر فائض اشخاص کو تاحیات استثنیٰ دے دیا گیا۔

جس پر مرد حر ،ایک زرداری سب پر بھاری اور قومی بیماری نے دستخط کر کے مہر ثبت کردی۔ اللہ کے نظام میں کوئی شخص 20 سال 24 گھنٹے مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کرتا رہے۔ اسے بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ اسے بھی اپنے اعمال کا اللہ کی عدالت میں جواب دینا ہے۔ جو شخص عہدے اور اعزاز کو حاصل استثنیٰ پر دستخط کرنے میں دیر نہ لگائے وہ کیسے سیاسی اور جمعوری لیڈر ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ ایک سرکاری ملازم جسے عوام کے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسوں سے تنخواہ اور مراعات حاصل ہوں ۔ اسے اللہ اور ملک کا کونسا آئین استثنیٰ دیتا ہے ۔ یہ سوال بھی میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔ جب ان دو سوالوں کا جواب مل جائے تو بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔


آج عوام جس کے ساتھ ہے ۔ اسکی جماعت پر پابندی لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جس کو عوام نہیں تسلیم کرتی وہ جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں ۔ ایسے کچھ سیاسی مستریوں نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کےلئے تحریک تحفظ آئین پاکستان بنائی ۔ آئین بحالی تب تک ممکن نہیں جبتک سیاسی جماعتوں کے اندر آئین بحال نہیں ہوتا ۔ سیاسی مستری تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آڑ میں سیاسی عزائم رکھتے ہیں ۔ جسکا مقصد عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں ۔ وہ سچے اور کھرے ہوتے تو سیاسی جماعتوں کے اندر جمعوریت اور احتساب کی بات کرتے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے آئین پر چلنے کا درس دیتے ۔ یہ کہا جائے کہ اس کرپٹ سیاسی نظام میں سارے ننگے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ کیا سیاسی کیا عسکری کیا نوکر شاہی ، کیا میڈیا ، کیا عدالتیں سب کے سب آئین کی پامالی کے ذمہ دار ہیں۔ جب تک عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لئے عوام سے رجوع نہیں کیا جاتا ؟ رائے عامہ کو منظم نہیں کیا جاتا؟ کرشمہ ساز قوت کا غلبہ حاوی رہے گا۔ عوام کے راج کے بغیر آئین کا راج ممکن نہیں ۔ اس کے لئے مصلحت سے بالاتر ہو کر نکلنا پڑے گا۔ اپنی ذات کو درست کرنا ہوگا ۔ ذات کی درستگی میں آئین کی بحالی کا راز پوشیدہ ہے ۔ بقول شاعر
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
ظلم کے خاتمے کا اسلامی فارمولا یہی ہے کہ سب سے پہلے ظلم کو ہاتھ سے روکو۔ ہاتھ سے روکنے کی سکت نہیں تو زبان سے روکو۔ زبان سے روکنے کی سکت نہیں تو دل میں برا جانو۔ دل میں برا جاننے کی سوچ پیدا ہو چکی ہے۔ جب اس عوامی سوچ کا آتش فشاں پھٹ گیا ۔ تو اسکا لاوا ظالموں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا ۔ یہی وہ ظلم کو دل میں برا جاننے کی سوچ بہت کچھ بدل دے گی۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جب سوچ بدل جائے سب کچھ بدل جاتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کی بنیاد بھی ایک سوچ تھی۔ تکمیل پاکستان کی بنیاد بھی ظلم کو برا جاننے کی سوچ ثابت ہوگی ۔ اللہ کا دستور بھی یہی ہے۔ اس کرپٹ سیاسی نظام کو ملکر چیلنج کرنا ہوگا۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں روڑے اٹکانے والے کیسے جمعوریت دوست ہو سکتے ہیں۔ اس بار الیکشن کمیشن کے شیڈول جاری ہونے کے بعد وارڈ کونسلرز کی فیسیں جمع ہونے کے بعد بلدیاتی انتخابات ملتوی کئے گئے۔عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق سلب کئے گئے ۔ تو بات رکے گی نہیں دور تک جائے گی۔جعلی حکومت اور عوام کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں رہے گا ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید و دیگر کو عمر قید کی سزا جب ایمان کو یرغمال بنا لیا جائے دنیا بھارت میں بڑھتی نفرت اور تشدد کو نظرانداز کیوں نہیں کر سکتی ریل گاڑی کی ہر کھڑکی سے ایک نئی دنیا کا نظارہ، ٹرین کا آرام دہ سفر 2025ء میں کتنا کٹھن رہا، آمدن کیا رہی؟ ازبکستان کی فعال دیپلماتکن: 2025 — متحرک مکالمے سے ٹھوس نتائج تک علامہ شاہ احمد نورانی اخبارات کے آِئینے میں ایک عہد۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تحریک تحفظ آئین پاکستان صدارتی ریفرنڈم عوام کے بنیادی سیاسی جماعتوں اقتدار کے جائے گا آئین کے آئین کی کیا گیا کے لئے کی سوچ

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان