data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صومالی لینڈ اور اسرائیل کے ممکنہ تعلقات کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب صومالی لینڈ کی حکومت نے اسرائیلی قیادت کی جانب سے کیے گئے دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صومالی لینڈ، جو خود کو صومالیہ سے علیحدہ ایک خود مختار ریاست قرار دیتا ہے، نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا ایسا معاہدہ نہیں کیا گیا جس میں فلسطینیوں کی آبادکاری یا اسرائیلی فوجی اڈوں کے قیام جیسی شرائط شامل ہوں۔ صومالی لینڈ کی وزارتِ خارجہ نے ان خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صومالی لینڈ کے اسرائیل کے ساتھ روابط محض سفارتی نوعیت کے ہیں اور وہ بھی بین الاقوامی قوانین اور خطے کے حساس حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم کیے گئے ہیں۔ بیان میں اس تاثر کو مسترد کیا گیا کہ صومالی لینڈ نے خود کو تسلیم کروانے کے بدلے غزہ سے بے گھر فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر بسانے یا خلیجِ عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یہ وضاحت اس پس منظر میں سامنے آئی جب صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے بدلے تین بڑی شرائط قبول کر لی ہیں۔ ان شرائط میں فلسطینیوں کی آبادکاری، اسرائیلی فوجی اڈے کا قیام اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت شامل بتائی گئی تھی۔ ان بیانات کے بعد نہ صرف خطے میں بلکہ مسلم ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

صومالی لینڈ کے وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کی آبادکاری یا فوجی اڈوں کے قیام پر کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی۔ اگرچہ انہوں نے مستقبل کے امکانات کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے سے گریز کیا، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسی کسی پیش رفت کی سختی سے تردید کی گئی۔ البتہ ابراہیمی معاہدوں کے حوالے سے یہ بات تسلیم کی گئی کہ اس پر سفارتی سطح پر گفتگو ہوئی ہے، جسے اسرائیل نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صومالی لینڈ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے والا ہے اور اسرائیل ایک معتدل مسلم ملک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے، تاہم  صومالی لینڈ کے حالیہ مؤقف نے اسرائیلی بیانیے کو کمزور کر دیا ہے اور یہ واضح کر دیا ہے کہ فلسطینی مسئلہ اب بھی مسلم دنیا کے لیے ایک حساس اور ناقابلِ نظرانداز حقیقت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ صومالی لینڈ اسرائیل کے کی جانب سے کے ساتھ

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل