آن انٹرٹینمنٹ کے تعاون سے رمادہ ہوٹل مری میںنیو ایئر نائٹ پر موسیقی کاتڑکا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
مری(ممتاز نیوز)نیو ایئر نائٹ پر موسیقی کا تڑکا ،رمادہ ہوٹل مری میں خوشیوں اور موسیقی سے بھرپور میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد کیا گیا۔ شاندار میوزیکل کنسرٹ میں شہریوںکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنسرٹ میں شریک شہریوں نے موسیقی سے بھرپور لطف اٹھایا۔ آن انٹرٹینمنٹ نے بطور آفیشل میڈیا پارٹنر کنسرٹ میں حصہ لیا، کنسرٹ کے دوران سہارا یوکے بینڈ کی جانب سے پیش کی جانے والی موسیقی نے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔شہریوں نے موسیقی ، لائیوپرفارمنس اور بھنگڑوں سے خوب لطف اٹھاتے ہوئے میوزیکل کنسرٹ کی انتظامیہ کو اور آن انٹرٹینمنٹ کو بطور آفیشل میڈیا پارٹنر فرائض انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔سہار ا بینڈ کی لائیو پرفارمنس دیکھنے کیلئے شہری دور دور سے ملکہ کوہسار مری پہنچے اور نئے سال کی خوشیوں کو موسیقی کے تڑکے کے ساتھ انجوائے کیا۔کنسر ٹ کے اختتام پرآتش بازی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا گیا جس نے جشن کی خوشیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔موسیقی،لائیو پرفارمنس،اور رنگا رنگ تفریح پروگرام نے نیو ائیر نائیٹ کی خوشیوں کو دوبالا کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔