بلوچستان میں نوکریاں فروخت ہو رہی ہیں، رحمت صالح بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اپنے بیان میں نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایک طرف میرٹ کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایکسائز میں سرعام پیسے لیے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے محکمہ ایکسائز کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں میں میرٹ کی سنگین پامالیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ اپنے جاری بیان میں انہوں نے گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ، چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ دوڑ پاس اور قد کی ریکروٹمنٹ میں آگے آنے والے نوجوانوں کی جگہ ایسے نوجوانوں کو تحریری امتحان کے سلپ جاری کیے گئے جو یا تو دوڑ میں فیل ہوئے یا پھر شامل بھی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاس نوجوانوں کو اس لیے امتحان کے لئے نہیں بلایا گیا، کیونکہ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ فی اسامی 15 سے 20 لاکھ روپے لینے کی اطلاعات ہیں، جن سے پیسے لیے گئے ان کو تحریری امتحان کا پرچہ بھی قبل از وقت دیا جا رہا ہے۔ یہ بدترین ظلم، زیادتی اور نوجوانوں کے ارمانوں کا خون ہے۔
انہوں نے کہ محکمہ ایکسائز میں ایک مضبوط لابی اور مافیا موجود ہے۔ جس نے محکمہ کو مارکیٹنگ کا ادارہ بنا دیا اور اس کو پارلیمانی سیکرٹری کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹوں پر پہلے بھی میرٹ پامال کرکے پیسے دینے والوں کو سلیکٹ کیا گیا۔ مافیا ایک بار پھر وہی تاریخ دہرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیسوں پر آسامیاں دینی ہیں تو ٹیسٹ اور انٹرویو کا ڈارمہ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ اشتہار میں ریٹ لگا کر ٹینڈر کیا جائے۔ کم سے کم بے روزگار نوجوانوں کا فوٹو اسٹیٹ کا خرچہ بچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایک طرف میرٹ اور آسامیوں کی فروخت پر سخت ایکشن کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایکسائز میں سرعام پیسے لیے جا رہے ہیں۔ کیا ان دعوؤں کی نفی اور کھلا تضاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو نیشنل پارٹی احتجاج اور عدالت سمیت ہر فورم استعمال کرکے نوجوانوں کا ساتھ دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رحمت صالح بلوچ انہوں نے کہ رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔