غیر مستحکم موسمی حالات نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ؛مسلم ممالک کے وزرائےخارجہ کا مشترکہ بیان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سٹی 42: پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا .
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہرا اظہار تشویش کیا،شدید ترین، غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں و طوفان نے غزہ کی انسانی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ سندھ بھر میں منانے کا اعلان
ناکافی انسانی رسائی، زندگی بچانے والی بنیادی اشیاء کی شدید قلت، اور بنیادی سہولیات کی قلت و عارضی رہائش کے قیام کے لیے ضروری مواد کی سست رفتار آمد نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے، مسلم ممالک کے وزرا نے زور دیا کہ شدید موسم نے موجودہ انسانی حالات کی نازک حالت کو بے نقاب کر دیا ہے، یہ نازک حالات بالخصوص تقریباً 19 لاکھ افراد اور بے گھر خاندانوں کے لیے ہیں جو غیر مناسب پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔
زیرِ آب کیمپ، خیموں کو نقصان، مخدوش عمارتوں کا انہدام، سرد موسم میں کھلے عام رہائش اور غذائی قلت نے شہری جانوں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ان خطرات میں بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی کمزور افراد کو زیادہ متاثر کرنے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی شامل ہے۔وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA)، اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا۔یہ تنظیمیں انتہائی مشکل حالات میں فلسطینی شہریوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سندھ جانے کی تیاری، دورہ کی تاریخ کا اعلان
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل یقینی بنائے کہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز غزہ اور مغربی کنارے میں مستقل، قابلِ پیش گوئی اور بلا رکاوٹ انداز میں کام کر سکیں۔انسانی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا،وزرا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیااورانہوں نے ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیاتاکہ جنگ بندی کو پائیدار بنایا جا سکے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کو باوقار زندگی میسر آ سکے،۔
2026 میں پاکستان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کی رکنیت سنبھال لی
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ ہموار کرنے پر زور دیا گیا۔اس تناظر میں، فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور انہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ان میں سخت سردیوں سے بچاؤ کے لیے پائیدار اور باعزت پناہ گاہوں کی فراہمی شامل ہے۔وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔انہوں نے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی کہ وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی و نکاسی کے وسائل سمیت ضروری اشیاء کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔غزہ پٹی میں اقوامِ متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے بلا رکاوٹ، مکمل اور فوری انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف کے لیے کھولنے پر بھی زور دیا گیا۔
سال نو کے پہلے روز پنجاب حکومت نے 9 سرکاری محکمے ختم کردیے، نوٹی فکیشن جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: زور دیا دیا گیا دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔