نیتن یاہو حکومت کو بڑا جھٹکا، 69 ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگی صورتحال، سیاسی کشمکش اور سکیورٹی عدم تحفظ نے عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جسکے باعث بڑی تعداد میں شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی حکومت کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا، جب سال 2025ء کے دوران 69 ہزار سے زائد افراد نے اسرائیل چھوڑ دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسلسل دوسرے سال بھی اسرائیل میں منفی ہجرت ریکارڈ کی گئی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ جنگ، سیاسی بے چینی، داخلی عدم استحکام اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات ملک چھوڑنے کی بڑی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025ء کے دوران صرف 24 ہزار 600 نئے مہاجرین اسرائیل آئے، جو ملک چھوڑنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی مجموعی آبادی بڑھ کر ایک کروڑ ایک لاکھ اٹھہتر ہزار ہوگئی، تاہم آبادی میں اضافہ صرف 1.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔