اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، قانونی طریقے کے بغیر گرفتاری اغوا قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ہائیکورٹ نے پولیس اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کے ہاتھوں کسی بھی شہری کی گرفتاری کو اغوا کے مترادف قرار دے دیا ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کو قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور پولیس کے احتساب کے حوالے سے ایک سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ اگر گرفتاری یا مقدمے کا اندراج قانونی تقاضوں کے مطابق نہ ہو تو ایسی کارروائی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اور قانونی پراسس کے غلط استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا جائے اور قانون کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو ایسی کارروائی خود بخود کالعدم ہو جاتی ہے۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی ایف آئی آر کی بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام تفتیش اور کارروائیاں بھی ختم سمجھی جائیں گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کرمنل کارروائی کو کالعدم قرار دینے کا دائرہ اختیار محدود ضرور ہے، تاہم غیر معمولی حالات میں عدالتیں اس اختیار کو استعمال کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا، کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں لینا ناقابلِ قبول ہے۔
یہ فیصلہ لاہور اور بہاولپور سے ایک خاتون اور کمسن بچوں کے مبینہ اغوا کے کیس میں سنایا گیا، جو سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول، شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے درمیان مالی لین دین کے تنازع سے متعلق تھا۔ اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے سے متعلق 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف پولیس کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرتے ہوئے ڈی آئی جی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ قانون شکنی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایسے اہلکاروں پر فی کس ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ یہ رقم بطور تلافی متاثرہ مدعی ثنا سہیل کو ادا کی جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، نقد رقم اور زیورات فوری طور پر واپس کیے جائیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاہور پولیس کو بھی ہدایت کی کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے معاملے میں نامزد ملزمان کے خلاف میرٹ پر شفاف تحقیقات کی جائیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور 30 روز کے اندر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 تھانہ ترنول اسلام آباد میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، جسے اب عدالت نے غیر قانونی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالت نے کے خلاف
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔