data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:  ہائیکورٹ نے پولیس اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ایک نہایت اہم فیصلہ سناتے ہوئے بغیر قانونی پراسس کے پولیس کے ہاتھوں کسی بھی شہری کی گرفتاری کو اغوا کے مترادف قرار دے دیا ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کو قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور پولیس کے احتساب کے حوالے سے ایک سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ اگر گرفتاری یا مقدمے کا اندراج قانونی تقاضوں کے مطابق نہ ہو تو ایسی کارروائی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ آئینی اصولوں کے بھی منافی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز اور قانونی پراسس کے غلط استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا جائے اور قانون کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو ایسی کارروائی خود بخود کالعدم ہو جاتی ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی ایف آئی آر کی بنیاد ہی غیر قانونی ہو تو اس کے بعد ہونے والی تمام تفتیش اور کارروائیاں بھی ختم سمجھی جائیں گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کرمنل کارروائی کو کالعدم قرار دینے کا دائرہ اختیار محدود ضرور ہے، تاہم غیر معمولی حالات میں عدالتیں اس اختیار کو استعمال کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا، کسی بھی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں لینا ناقابلِ قبول ہے۔

یہ فیصلہ لاہور اور بہاولپور سے ایک خاتون اور کمسن بچوں کے مبینہ اغوا کے کیس میں سنایا گیا، جو سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول، شہری محمد وقاص اور علیم سہیل کے درمیان مالی لین دین کے تنازع سے متعلق تھا۔ اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے محمد وقاص، علیم سہیل اور ان کی اہلیہ ثنا سہیل کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے سے متعلق 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد وقاص، علیم سہیل، ثنا سہیل اور ارحم وقاص کے خلاف پولیس کی جانب سے درج مقدمہ خارج کرتے ہوئے ڈی آئی جی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ قانون شکنی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

تحریری فیصلے میں آئی جی اسلام آباد کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایسے اہلکاروں پر فی کس ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ یہ رقم بطور تلافی متاثرہ مدعی ثنا سہیل کو ادا کی جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ خاتون کے ساتھ لائی گئی ملکیتی گاڑیاں، نقد رقم اور زیورات فوری طور پر واپس کیے جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاہور پولیس کو بھی ہدایت کی کہ خاتون اور بچوں کے اغوا کے معاملے میں نامزد ملزمان کے خلاف میرٹ پر شفاف تحقیقات کی جائیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور 30 روز کے اندر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ مقدمہ نمبر 653/25 تھانہ ترنول اسلام آباد میں پولیس مقابلے اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا، جسے اب عدالت نے غیر قانونی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالت نے کے خلاف

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل