امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما ظہران ممدانی قرآنِ مجید پر حلف اٹھا کر میئر کا عہدہ سنبھال لیا۔ تقریب حلف برداری میں ان کی اہلیہ رما دواجی بھی موجود تھیں جنہوں نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔

تقریب میں ظہران ممدانی کی اہلیہ کے اسٹائل، لباس اور خصوصاً مہنگے جوتوں نے  توجہ حاصل کر لی۔ رپورٹس کے مطابق رما دواجی نے تقریباً کے موقع پر Miista برانڈ کے ’شیلی بوٹس‘ پہنے جن کی قیمت تقریباً  630 امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

Socialist Zohran Mamdani’s wife Rama Duwaji appears to wear luxury $630 boots to swearing in ceremony https://t.

co/ohy0HVeByC pic.twitter.com/W9GuciHdhS

— New York Post (@nypost) January 1, 2026

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے مہنگے جوتوں کے انتخاب کو ممدانی کی انتخابی مہم میں پیش کیے گئے بیانیے سے متصادم قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ جب میئر عوامی اخراجات میں کمی اور رہائش کی لاگت گھٹانے کی بات کر رہے ہیں تو ایسے فیشن انتخاب منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔ تاہم دیگر صارفین نے اس تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پالیسی مباحث کے بجائے ذاتی لباس پر توجہ دینا نامناسب ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ سوشلزم کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے پاس اچھی چیزیں نہیں ہو سکتیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ سب کے پاس اچھی چیزیں ہونی چاہئیں۔

socialism doesn’t mean you can’t have nice things it means everyone gets nice things you fucking twats https://t.co/vnYgnCyfZP pic.twitter.com/2LxS9PjEYn

— H | HAYLEY WILLIAMS LOVES ME (@decodethemonstr) January 2, 2026

جولی نامی صارف نے کہا کہ سوشلسزم کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کو مردانہ نظریے کے تحت غریب لباس پہننا چاہیے یہ غیر دانشمندانہ اور جنس پرستانہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران ارب پتی روزانہ شہر لوٹ رہے ہیں اور آپ صرف ایسے مضامین شائع کرتے ہیں۔

Imagine thinking socialism means women must dress poor for the male gaze. This is anti-intellectual, sexist nonsense.
Meanwhile billionaires loot the city daily and you print puff pieces. https://t.co/sMlydXzH0U

— Julie (Aakadewin-O Waawaashkeshi Kwe) Francella (@JulieFrancella) January 1, 2026

 ایک صحافی نے دعویٰ کیا کہ رما دواجی نے اپنی تقریبِ حلف برداری کی چیزیں جن میں جوتے بھی شامل ہیں خریدنے کے بجائے کرائے پر حاصل کی تھیں۔

FULL RAMA DUWAJI FASHION CREDITS: vintage Balenciaga coat from Albright Fashion Library + archival earrings from New York Vintage, both rented. Shorts from The Frankie Shop and the Miista boots were ON LOAN from the brand styled by Gabriella Karefa-Johnson. https://t.co/6PmTpTXY3N

— Louis Pisano (@LouisPisano) January 1, 2026

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رما دواجی رما دواجی جوتے ظہران ممدانی ظہران ممدانی اہلیہ ظہران ممدانی اہلیہ جوتے ظہران ممدانی حلف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رما دواجی رما دواجی جوتے ظہران ممدانی اہلیہ ظہران ممدانی حلف رما دواجی

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم