ایف بی آر فیلڈ فارمیشنز حصول ہدف میں کلیدی کردار ادا کرینگی، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دسمبر 2025 میں ریکارڈ ٹیکس وصولی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کارکردگی کو حکومت کے مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے، بہتر ٹیکس تعمیل، مؤثر نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کی کامیابی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹیم ایف بی آر اور فیلڈ فارمیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دسمبر 2025 کی وصولیاں نہایت حوصلہ افزا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، کیش لیس لین دین کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر مضبوط نفاذِ قانون کی حکمت عملی نے عملی اور پائیدار نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔
وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے دسمبر 2025 میں 1,427.
اسی طرح ان لینڈ ریونیو سروس (IRS) نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 1,310 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1,308 ارب روپے وصول کیے، جو 99.8 فیصد بنتا ہے۔
ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو نومبر کے مقابلے میں دسمبر میں ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ہوا۔ نومبر میں وصولی 898 ارب روپے تھی، جو دسمبر میں بڑھ کر 1,427.1 ارب روپے ہو گئی۔
انکم ٹیکس کی وصولی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جو نومبر کے 402 ارب روپے سے بڑھ کر دسمبر میں 831.5 ارب روپے تک پہنچ گئی، یعنی 107 فیصد اضافہ۔
سیلز ٹیکس کی وصولی میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 403.7 ارب روپے رہی، جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 72.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 118.9 ارب روپے رہی۔
ایف بی آر بورڈ کی مسلسل نگرانی اور وزارتِ خزانہ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے مطابق یہ نتائج مضبوط ٹیکس تعمیل، بہتر نفاذ اور ادارہ جاتی احتساب کی جانب واضح پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر وزیرِ خزانہ نے ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز پر زور دیا کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں اور ٹیکس نیٹ کو گہرا اور وسیع بنانے کے لیے دوگنی محنت کریں۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ٹیکس تعمیل اور مؤثر نفاذ ہی وہ واحد پائیدار راستہ ہے جس کے ذریعے رسمی شعبے پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹیم ایف بی آر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، محنت اور مؤثر نفاذ کے ذریعے اس اہم قومی ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ فارمیشنز فیصد اضافہ مو ثر نفاذ وصولی میں ایف بی ا ر اضافہ ہوا کی وصولی ارب روپے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔