ایف بی آر ٹیکس ہدف پورا کرنے میں ناکام‘ 335 ارب روپے کا شارٹ فال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-08-24
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایف بی آر موجودہ مالی سال مسلسل پانچویں ماہ ٹیکس ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوگیا، مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس ریونیو میں 335 ارب روپے سے زاید کمی کا سامنا ہے۔ آمدن ہدف سے کم رہنے کے باعث اگلی سہ ماہی میں نئے ٹیکس اقدامات کا امکان برقرار ہے، شارٹ فال پورا کرنے کیلیے متبادل کے طور پر حکومتی اخراجات میں کمی کرنے کی تجویز ہے، حکومتی ٹیکس آمدن میں کمی سے بجٹ خسارے سمیت دیگر اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق سالانہ ٹیکس ہدف پر نظرثانی آئی ایم ایف کی مشاورت سے کی گئی، آئی ایم ایف اگلے ہفتے ایف بی آر کی ٹیکس کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق جولائی تا دسمبر 6 ہزار 489 ارب روپے ہدف کے مقابلے وصولی 6 ہزار 154 ارب رہی، جولائی 2025 کے سوا کسی مہینے میں ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، ماہ دسمبر میں بھی ٹیکس وصولی ہدف سے تقریبا 25 ارب روپے کم رہی۔ دسمبر میں 1446 ارب ہدف کے مقابلے میں 1421 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، دسمبر میں سب سے زیادہ 828 ارب روپے وصولی انکم ٹیکس سے ہوئی، سیلز ٹیکس وصولی 434 ارب روپے رہی، کسٹمز ڈیوٹی سے 123 ارب روپے حاصل ہوئے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 72 ارب روپے سے زاید حاصل ہوئے۔ حکام ایف بی آر کے مطابق دسمبر میں ٹیکس ریفنڈز کی مد میں 38 ارب روپے ادا کیے گئے، سالانہ ٹیکس ہدف 14 ہزار 130 ارب سے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا، کارپوریٹ سیکٹر نے دسمبر کے آخری دن 305 ارب کی بڑی ادائیگیاں کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکس وصولی ایف بی ا ر ٹیکس ہدف ارب روپے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔