سابق ایئر مارشل نور خان کی صاحبزادی امریکہ میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
نیو یارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق ایئر مارشل (ر) نور خان کی صاحبزادی اور معروف طبی ماہر پروفیسر ڈاکٹر فائقہ قریشی (faiqa qureshi)امریکی میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئیں۔ ان کی اچانک وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد طبی حلقوں، پاکستانی کمیونٹی اور اہلِ خانہ میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہے۔
خاندانی ذرائع اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق ڈاکٹر فائقہ قریشی کی گاڑی کو حادثہ اچانک پیش آیا، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری نہیں کی جا سکیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کی نوعیت اور اسباب سے متعلق مزید معلومات کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر فائقہ قریشی پیڈیاٹرک ایمرجنسی میڈیسن کے شعبے میں ایک ممتاز نام تھیں۔ وہ نہ صرف ایک تجربہ کار اور ماہر ڈاکٹر تھیں بلکہ بطور استاد بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مریضوں سے ہمدردانہ رویے اور تدریسی خدمات کے باعث بے حد مقبول تھیں۔ ان کے شاگرد اور ساتھی انہیں ایک مخلص، نرم خو اور انسان دوست طبی ماہر کے طور پر یاد کر رہے ہیں۔
ایف آئی اےپشاور زون کی کارروائی، حوالہ ہنڈی میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، کروڑوں روپے برآمد
ڈاکٹر فائقہ کی وفات پر امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی سمیت دنیا بھر میں طبی برادری کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں انہیں ایک شاندار ڈاکٹر اور بہترین انسان قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ کے چلڈرنز ہاسپٹل آف دی کنگز ڈاٹرز نے بھی ڈاکٹر فائقہ قریشی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر فائقہ ایک نہایت مخلص، قابل اور پیشہ ور پیڈیاٹرک فزیشن تھیں، جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری نے’’ ستھرا پنجاب پروگرام ‘‘کے ماڈل کی تفصیلات مانگی ہیں: عظمیٰ بخاری
واضح رہے کہ ڈاکٹر فائقہ قریشی کے والد ایئر مارشل (ر) نور خان پاکستان کی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت رہے ہیں۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ سول ایوی ایشن، اسپورٹس اور دیگر اہم قومی اداروں میں بھی ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ڈاکٹر فائقہ قریشی کی وفات کو طبی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈاکٹر فائقہ قریشی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔