چور نے نشے میں ہونے کا بہانہ بنا کر اسٹور کا چوری شدہ سامان واپس کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکا کے نیوجرسی میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں ایک چور نے گٹار اسٹور سے چوری شدہ تمام اشیا واپس کر دیں اور معافی نامہ بھی چھوڑا۔ چور نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ وہ نشے میں تھا اور اسٹور مالک کے لیے نیک خواہشات بھی بھیجیں۔
لارک اسٹریٹ میوزک کے مالک بزی لیوائن کے مطابق، چور نے دو مینڈولینز جو پہلے چوری کی گئی تھیں، واپس اسٹور میں رکھ دیں۔ مالک نے بتایا کہ وہ دروازے کی طرف بھاگا تو چور سڑک کی طرف بھاگ چکا تھا۔ بعد ازاں اس نے پولیس کو اطلاع دی تاکہ چور کو پکڑنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
لیوائن نے اسٹور کے فیس بک پیج پر چور کے معافی نامے اور واپسی کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ اس میں چور نے لکھا تھا کہ ’’معاف کرنا، میں نشے میں تھا، میری کرسمس، تم اچھے آدمی ہو۔‘‘
https://www.facebook.com/LarkStreetMusic/posts/recovered-thank-you-all-for-spreading-the-clip-of-the-theft-of-the-2-mandolins-a/862936319709769/
اسٹور کے مالک نے کہا کہ قیمتی سامان کی واپسی کے بعد منظر بالکل فلمی سین جیسا محسوس ہوا۔ چوری شدہ آلات کی قیمت تقریباً 22 لاکھ پاکستانی روپے (7750 ڈالر) تھی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا اور صارفین نے چور کی غیر معمولی واپسی پر حیرت کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چور نے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔