شہرِ قائد کی منہدم عمارتوں کے رہائشیوں کو رہائش دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : حکومتِ سندھ کی جانب سے کراچی کی منہدم عمارتوں کے رہائشیوں کو محفوظ رہائش دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کی خطرناک عمارتوں کو خالی کروانے اور انہدام کیلیے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کو محفوظ رہائش فراہم کی جا سکے، فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں کی فوری خالی کروایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جو عمارتیں پہلے ہی خالی کی جا چکی ہیں انہیں مسمار کیا جائے گا، متاثرہ رہائشیوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا، شہر میں 588 انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 471 کا سروے مکمل کر لیا۔
ہاردیک پانڈیا نے نیاسال محبوبہ کیساتھ گزارا ،یادگار لمحات کی تصاویر شئیر
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 59 خالی کروائی گئی عمارتوں کے متاثرین کی رہائش طے کی ہے، متاثرہ خاندانوں کیلیے فلیٹس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدر آباد، سکھر اور دیگر شہروں میں بھی ایسے سروے کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا فیصلہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔