کے پی، عبوری حکومت میں بھرتی کیے گئے ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے عبوری حکومت کے دوران بھرتی کیے گئے ملازمین کو ملازمت سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا۔
اس سلسلے میں محکمہ اعلیٰ تعلیم نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام کو خط لکھا دیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ سرکاری ملازم شوہر کی بیوہ کو ملنے والی نوکری دوسری شادی پر ختم نہیں ہوسکتی۔
خط کے متن کے مطابق سرکاری جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ ادارے قانون پر عملدرآمد یقینی بنائیں، یہ وزارتی کمیٹی میں زیر غور آچکا ہے۔
خط کے مطابق اس معاملے پر محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور قانون سے بھی رائے حاصل کی جاچکی ہے، جامعات اور متعلقہ ادارے 10 دن میں رپورٹ جمع کرائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔