کاروباربرآمدات میں کمی، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ملکی تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
رواں مالی سال کے 6 ماہ میں ملک کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا دسمبر برآمدات میں8.7 فیصد کمی ہوئی، جولائی تا دسمبر درآمدات میں 11.28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا کہ رواں مالی سال پہلی ششماہی میں 15 ارب18 کروڑ ڈالرسے زائد برآمدات ہوئیں، 6 ماہ میں درآمدات34 ارب38 کروڑ ڈالرسے زیادہ کی ریکارڈ کی گئیں۔ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی6 ماہ میں 16 ارب63 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات تھیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 30 ارب90 کروڑ ڈالر کی درآمدات تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے رواں مالی سال دسمبر میں برآمدات میں 20 فیصد کمی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے رواں سال دسمبر میں درآمدات میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رواں مالی سال کروڑ ڈالر سال دسمبر
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔