Al Qamar Online:
2026-07-24@02:24:28 GMT

دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد پر آگئی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد پر آگئی


کراچی:

دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ 6.1 فیصد اور دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد تھی، اگرچہ مہنگائی میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم گھریلو صارفین پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔

ماہانہ بنیاد پر دسمبر 2025 میں سی پی آئی میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نومبر میں 0.

4 فیصد اضافہ اور گزشتہ سال دسمبر میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔شہری علاقوں میں دسمبر 2025 کے دوران مہنگائی سالانہ بنیاد پر 5.8 فیصد رہی، جو نومبر کے 6.1 فیصد سے کم مگر دسمبر 2024 کے 4.4 فیصد سے زیادہ ہے۔

ماہانہ بنیاد پر شہری مہنگائی میں 0.4 فیصد کمی ہوئی، جبکہ نومبر میں 0.5 فیصد اضافہ اور دسمبر 2024 میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 2025 کے اختتام پر قیمتوں میں دباؤ میں کمی دیکھنے میں آئی، جو بڑی حد تک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے۔

بروکریج ہاؤسز کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ غذائی اشیا خصوصاً سبزیوں جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی، بہتر سپلائی صورتحال اور موافق بیس ایفیکٹ ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے مطابق، مہنگائی میں تیز کمی کی بڑی وجوہات موافق بیس ایفیکٹ، غذائی اشیا کی قیمتوں میں نرمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہیں، جس کے باعث مجموعی مہنگائی کئی سال کی کم ترین سطح پر رہی۔



مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومت کے اشاریے گمراہ کُن اور جھوٹ قرار



مہنگائی کے ستائے عوام کو نئے سال کا تحفہ، ایل پی جی گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ

دسمبر میں مجموعی مہنگائی کم رہی، جبکہ غذائی مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد کم ہوئی۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ ریلیف غیر مساوی اور ممکنہ طور پر عارضی ہے۔

اگرچہ غذائی قیمتوں میں کمی نے قلیل مدت میں سہولت فراہم کی ہے مگر بنیادی (کور) مہنگائی کے اشاریے خصوصاً شہری علاقوں میں سختی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

تعلیم، صحت، رہائش سے متعلق یوٹیلیٹیز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز جیسے شعبے مہنگائی میں اضافے کے بڑے محرک رہے، جو ساختی لاگت کے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

شہری مہنگائی کے رجحانات خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں، کیونکہ مجموعی کھپت اور خدمات کی بڑی طلب شہروں سے وابستہ ہے۔ ماہانہ کمی کے باوجود شہری بنیادی مہنگائی بلند سطح پر ہے،ٹورس سیکیورٹیز کے مطابق دیگر شعبوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق محدود رہی، جن میں بعض بنیادی شعبے بھی شامل ہیں۔

یوٹیلیٹیز کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ ملبوسات، تعلیم، ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور متفرق اشیابنیادی مہنگائی میں اضافے کے اہم عوامل رہے۔

مالیاتی نظم و ضبط کے دباؤ بھی چیلنج میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سبسڈیز کے لیے محدود گنجائش اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کے باعث آئندہ بجٹ اقدامات بالخصوص شہری صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ العمل ہوں گی اور 23 جولائی تک برقرار رہیں گی۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ