دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.6 فیصد پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کراچی:
دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 5.6 فیصد رہی، جو گزشتہ ماہ 6.1 فیصد اور دسمبر 2024 میں 4.1 فیصد تھی، اگرچہ مہنگائی میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم گھریلو صارفین پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔
ماہانہ بنیاد پر دسمبر 2025 میں سی پی آئی میں 0.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نومبر میں 0.
ماہانہ بنیاد پر شہری مہنگائی میں 0.4 فیصد کمی ہوئی، جبکہ نومبر میں 0.5 فیصد اضافہ اور دسمبر 2024 میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 2025 کے اختتام پر قیمتوں میں دباؤ میں کمی دیکھنے میں آئی، جو بڑی حد تک مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے۔
بروکریج ہاؤسز کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ غذائی اشیا خصوصاً سبزیوں جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی، بہتر سپلائی صورتحال اور موافق بیس ایفیکٹ ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ (AHL) کے مطابق، مہنگائی میں تیز کمی کی بڑی وجوہات موافق بیس ایفیکٹ، غذائی اشیا کی قیمتوں میں نرمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہیں، جس کے باعث مجموعی مہنگائی کئی سال کی کم ترین سطح پر رہی۔
مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومت کے اشاریے گمراہ کُن اور جھوٹ قرار
مہنگائی کے ستائے عوام کو نئے سال کا تحفہ، ایل پی جی گیس کی قیمت میں بڑا اضافہ
دسمبر میں مجموعی مہنگائی کم رہی، جبکہ غذائی مہنگائی ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد کم ہوئی۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ ریلیف غیر مساوی اور ممکنہ طور پر عارضی ہے۔
اگرچہ غذائی قیمتوں میں کمی نے قلیل مدت میں سہولت فراہم کی ہے مگر بنیادی (کور) مہنگائی کے اشاریے خصوصاً شہری علاقوں میں سختی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
تعلیم، صحت، رہائش سے متعلق یوٹیلیٹیز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز جیسے شعبے مہنگائی میں اضافے کے بڑے محرک رہے، جو ساختی لاگت کے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
شہری مہنگائی کے رجحانات خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں، کیونکہ مجموعی کھپت اور خدمات کی بڑی طلب شہروں سے وابستہ ہے۔ ماہانہ کمی کے باوجود شہری بنیادی مہنگائی بلند سطح پر ہے،ٹورس سیکیورٹیز کے مطابق دیگر شعبوں کی کارکردگی توقعات کے مطابق محدود رہی، جن میں بعض بنیادی شعبے بھی شامل ہیں۔
یوٹیلیٹیز کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ ملبوسات، تعلیم، ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور متفرق اشیابنیادی مہنگائی میں اضافے کے اہم عوامل رہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کے دباؤ بھی چیلنج میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سبسڈیز کے لیے محدود گنجائش اور بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کے باعث آئندہ بجٹ اقدامات بالخصوص شہری صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :