کراچی؛ تاجروں اور صنعت کاروں سے بھتہ طلب کرنے والے گروہ کے دو کارندے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کراچی:
اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس اور وفاقی انٹیلیجنس ادارے نے مشترکہ طور پر مختلف کارروائیوں کے دوران تاجروں اورصنعتکاروں سے بھتہ طلب کرنے والے مبینہ بھتہ خور گروہ کے 2 کارندوں اور 3 رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو اوروفاقی انٹیلیجنس ادارے نے بھتہ خوروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر بھتہ خور صمد کاٹھاواڑی اوروصی اللہ لاکھو گروہ کے 2 اہم کارندوں ابو ہریرہ اور دلاور کو گرفتار کر لیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر عمران خان کے مطابق ملزمان کو مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا، جو شہر میں تاجروں سے بھتہ طلبی میں ملوث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان تاجروں اورصنعت کاروں کی ریکی کرتے تھے اور تمام معلومات بیرون ملک بھتہ خور گروہ کے سرغنہ کو فراہم کی جاتی تھی، جس کے بعد گروہ کا سرغنہ بیرون ملک کے نمبروں سے تاجروں سے بھتہ طلب کرتا تھا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نیو کراچی میں بھتے کے مقدمے میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان نے گارمینٹس فیکٹری کے مالک کو بھتہ طلبی کے لیے کال کی تھی اور فیکٹری کے مالک کو ڈرانے کے لیے اس کی رہائش گاہ پر فائرنگ بھی کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور گرفتار ملزمان کے خلاف ایس آئی یو میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ایس آئی یو پولیس نے کورنگی زمان ٹاؤن کے علاقےمیں کارروائی کرتے ہوئے تین رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کرلیا اور ان سے اسلحہ تین پستول اور چھینے ہوئے موبائل فون برآمدکرلیا۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان لانڈھی، کورنگی، ملیر، قائدآباد اورصنعتی ایریا میں وارداتیں کرتے تھے، گرفتار ملزمان کی شناخت موسیٰ، ارمان اور ساحل کے نام سے کی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ گرفتار ملزمان کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے، ملزمان پر ڈکیتی موبائل فون چھیننے کے مقدمات درج ہیں، ملزمان کے خلاف ایس آئی یو میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔