آجکل لوگ بیہودگی پر ہنسنے لگے ہیں، بشریٰ انصاری کا پاکستان میں کامیڈی کے زوال پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اداکارہ، گلوکارہ اور ڈرامہ نگار بشریٰ انصاری نے ایک سیشن میں اپنی زندگی کے تجربات، کام اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری پر کھل کر بات کی ہے۔
بشری انصاری نے بتایا کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئیں لیکن لاہور میں پرورش پائیں۔ ان کے والد احمد بشیر ایک صحافی اور فعال کارکن تھے جنہیں سچ کہنے کی وجہ سے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انصاری نے بچپن میں موسیقی شروع کی، حالانکہ ان کے والد کو یہ پسند نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں چوری کی واردات، معروف کامیڈین کی گاڑی گھر کے باہر سے چوری
اداکارہ نے کہا کہ اسٹار ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن برقرار رکھا۔ انہوں نے بیٹیوں کی پرورش اور اپنے کام دونوں کو برابر اہمیت دی۔ انہوں نے 60 سال کی عمر میں اپنے دوسرے شوہر اقبال حسین سے شادی کی اور ان کے درمیان باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط رشتہ قائم ہے۔
بشری انصاری نے اپنے کیریئر کی ابتدا فرخ قیصر کے ساتھ بطور پپیٹیر کی، پھر مونی اختر اور انور مقصود کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ مزاح کے معیار میں تبدیلی آئی ہے اور آج کل لوگ بے ہودگی پر ہنسنے لگے ہیں، جبکہ ان کا مزاح سادہ اور صاف ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: کامیڈی وائلڈ لائف ایوارڈز 2025: پر لطف فطری لمحات کی تصویری نمائش
ڈرامہ انڈسٹری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروڈکشن ہاؤسز صرف منافع بخش کہانیاں بناتے ہیں، جس کی وجہ سے نئے اور تجرباتی ڈرامے کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بشری انصاری نے کہا کہ موجودہ دور میں عمر رسیدہ خواتین کے لیے مضبوط کردار کم لکھے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں عمر رسیدہ اداکاروں کے لیے اب بھی دلچسپ کردار دستیاب ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
bushra ansari بشریٰ انصاری کامیڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کامیڈی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔